اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) پاکستان اور ایران نے دہشت گردی، منشیات و انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ جیسے خطرات اور جرائم سے نمٹنے کے لئے سیاسی، عسکری اور سیکورٹی حکام کے مابین باقاعدہ تعاون اور تبادلہ خیال بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین نئے کراسنگ پوائنٹس اور نئی سرحدی مارکیٹیں کھولنے کے لئے درکار اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ دونوں …
وزیراعظم عمران خان کے دو روزہ سرکاری دورہ کے اختتام پر ایران اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) پاکستان اور ایران نے دہشت گردی، منشیات و انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ جیسے خطرات اور جرائم سے نمٹنے کے لئے سیاسی، عسکری اور سیکورٹی حکام کے مابین باقاعدہ تعاون اور تبادلہ خیال بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین نئے کراسنگ پوائنٹس اور نئی سرحدی مارکیٹیں کھولنے کے لئے درکار اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ دونوں ممالک تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے مطلوبہ میکنزم تشکیل دیں گے۔ پیر کو اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے دو روزہ سرکاری دورہ کے اختتام پر ایران اور پاکستان کی جانب سے جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی دعوت پر 21 سے 22 اپریل تک ایران کا اعلیٰ سطحی دورہ کیا۔ حالیہ برسوں میں دونوں اطراف کے مابین قیادت کی سطح پر باقاعدہ دورے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے دورے کے دوران اتوار کو روز مشہد میں امام رضا کے مزار پر حاضری دی۔ انہوں نے ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ وفد کی سطح پر بات چیت کی اور اپنے دورے کے دوران انہوں نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کی۔ دونوں برادر مسلم ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور تہذیبی تعلقات پر زور دیتے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں اطراف نے قومی مفاد، علاقائی سالمیت اور قومی خود مختاری کے لئے باہمی احترام کے اصولوں کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دوطرفہ معاہدوں پر عملدرآمد پر بھی زور دیا۔ دونوں اطراف نے اس امر کو اجاگر کیا کہ مشترکہ سرحدوں کو امن اور دوستی کی سرحد ہونا چاہیے اور دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ، ہیومن ٹریفکنگ، منی لانڈرنگ، یرغمال بنانے اور اغواء جیسے جرائم اور خطرات سے نمٹنے کے لئے دونوں ممالک کے سیاسی، عسکری اور سیکورٹی کے حکام کے مابین باقاعدہ تعاون اور تبادلہ خیال بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کی داخلہ کی وزارتوں کی سپیشل سیکورٹی کمیٹی کا دسواں دور رواں سال جون میں اسلام آباد میں ہو گا جس میں اس حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ کونسلر کمیشن کا آئندہ اجلاس رواں برس کی دوسری ششماہی میں ہو گا جس میں اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا اور دونوں اطراف سے عوام کی آمد و رفت میں مزید سہولت کے لئے لائحہ عمل وضع کیا جائے گا۔ پاکستان نے ایرانی حکومت کی طرف سے بڑی تعداد میں پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کرنے اور ان کی وطن واپسی کے لئے انتظامات کا خیر مقدم کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نے اتفاق کیا کہ ایران کے سیستان۔ بلوچستان صوبے اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مابین تعاون بڑھانے اور مضبوط کرنے بشمول سرحدی راستے اور مارکیٹیں کھولنے سے مقامی رہائشیوں کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور سرحدی چیلنجوں اور عدم تحفظ کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی ہو گی۔ دونوں اطراف نے گبد۔ ریمدان اور مند۔ پشین میں نئے کراسنگ پوائنٹس جلد کھولنے اور نئی سرحدی مارکیٹیں کھولنے کے لئے درکار مزید اقدامات اور تیاریوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مئی 2019ء میں اسلام آباد میں ہائی بارڈر کمیشن کے دوسرے دور کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں اطراف نے ایران سے پاکستان کو بجلی کی فراہمی سمیت توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان نے اپنے صوبہ بلوچستان کے لئے بجلی کی فراہمی جاری رکھنے پر ایرانی حکومت کو سراہا۔ دونوں ممالک اور عوام کے مابین مضبوط اور تاریخی، سماجی، ثقافتی و لسانی روابط کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں اطراف نے اکیڈمک، ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیوں بالخصوص دونوں ممالک کے دانشوروں، عوامی فنکاروں، ثقافتی وفود کے مزید تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور دونوں ممالک میں تاریخی مذہبی مقامات کی سیاحت و زیارت کے مواقع بڑھانے کے ذریعے ان تعلقات کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے ایران میں حالیہ شدید سیلابوں سے ہونے والے مالی نقصانات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ ایکجہتی و تعاون کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ایران کے عوام اس کو قدرتی آفت کا صبر سے مقابلہ کریں گے۔ ایران نے سیلاب سے متاثرہ عوام کے لئے انسانی امداد بھجوانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں اطراف نے صحت کے شعبے میں تعاون کے لئے اعلامیہ پر دستخط کا خیر مقدم کیا جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے کے ساتھ دوطرفہ تکنیکی معاونت کرتے ہوئے اپنے تجربات کا تبادلہ کریں گے۔ دونوں ممالک کے مابین 2018ء میں تجارت کے حجم میں اضافہ کے حوالہ سے جائزہ لیتے ہوئے ایران کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نے متعلقہ اداروں اور وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ تمام دستیاب ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین مالیاتی و تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے تمام مطلوبہ میکنزم تشکیل دیں۔ دونوں اطراف نے ان معاملات پر مزید تبادلہ خیال کے لئے 2019ء کی دوسری ششماہی میں جوائنٹ اکنامک کمیشن کا 21 واں دور پاکستان میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں اطراف نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا اور اس امر پر زور دیا کہ مغربی ایشیائی ممالک کے مابین تعلقات بڑھانے اور یکجہتی کے لئے امن و استحکام اور پائیدار ترقی ناگزیر ہے۔ دونوں اطراف نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون بالخصوص ریاستوں کی برابر خودمختاری، سیاسی آزادی اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں اطراف نے بین الاقوامی سطح سمیت تمام ریاستوں کے لئے قانون کی حکمرانی پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے یکطرفہ طور پر کسی بھی ملک کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات جو کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے برخلاف ہیں، پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ایران کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نے علاقائی امن اور استحکام کے لئے محفوظ، مستحکم اور آزاد افغانستان کے قیام کی ضرورت اور افغانوں کی زیر قیادت اور افغانوں کے ذریعے امن مذاکرات کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا اور علاقائی ممالک اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں مکمل امن کی بحالی اور تنازعہ کے خاتمہ کے لئے مل کر کام کریں۔ دونوں اطراف نے اس ضمن میں وسیع تر علاقائی اتفاق رائے کے حصول کے لئے مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے دونوں ممالک کی کامیابیوں کو سراہا اور اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور ان کے انسداد کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے اور خطے میں ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اس کی وجہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ دوطرفہ اور علاقائی تعاون اور تجارت کو تیز کرنے اور اس سلسلے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے کنیکٹیویٹی اور ٹرانزٹ کوریڈورز کو ترقی دینے کی اہمیت کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں اطراف نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور ایران میں شمال۔ جنوب اور مشرق۔ مغرب راہداریوں کے قیام کے لئے معاہدوں سمیت دوطرفہ اور کثیر الجہتی معاہدوں پر عملدرآمد کا خیر مقدم کیا۔ مشترکہ بیان کے مطابق ایران کے صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نے تہران میں چھ ملکی سپیکرز کانفرنس سمیت مختلف ریاستوں کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لئے دونوں ریاستوں کے مابین تعاون کی تمام جہتوں کا خیر مقدم کیا۔ دونوں اطراف نے جموں و کشمیر کا تنازعہ خطے کے عوام کی مرضی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اقوام تمحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مذاکرات اور پر امن ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایران کے صدر پاکستان کے وزیراعظم نے زور دیا کہ فلسطین کے عوام کے آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے جو کہ مسلم ممالک کا اہم مطالبہ ہے۔ دونوں اطراف نے فلسطینی عوام کے لئے آزاد ریاست کے قیام میں مدد دینے کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی انتظامات اور میکنزمز کے ذریعے کوششوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ مشترکہ بیان کے مطابق دونوں اطراف نے زور دیا کہ دوسری ریاستیں مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) پر مکمل عملدرآمد کریں۔ وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر کی طرف سے پاکستانی وفد کے گرمجوشی سے استقبال اور خیر مقدم کو سراہا اور ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کو سرکاری طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ ان کے دورے کی تاریخوں کا تعین سفارتی ذرائع کے ذریعے کیا جائے گا۔








