اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف کو فاٹا اصلاحات کمیٹی کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو عام کیا جائے گا تاکہ اس پر مزید بحث اور تبادلہ خیال کے بعد ان سفارشات پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ وزیراعظم ہاﺅس سے جاری بیان کے مطابق فاٹا میں اصلاحات سے متعلق رپورٹ پر بدھ کو نیشنل ایکشن پلان (نیپ) پر عملدرآمد …
وزیراعظم محمد نواز شریف کو فاٹا اصلاحات کمیٹی کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو عام کیا جائے گا تاکہ اس پر مزید بحث اور تبادلہ خیال کے بعد ان سفارشات پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، وزیراعظم ہاﺅس کا بیان
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف کو فاٹا اصلاحات کمیٹی کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو عام کیا جائے گا تاکہ اس پر مزید بحث اور تبادلہ خیال کے بعد ان سفارشات پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ وزیراعظم ہاﺅس سے جاری بیان کے مطابق فاٹا میں اصلاحات سے متعلق رپورٹ پر بدھ کو نیشنل ایکشن پلان (نیپ) پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے منعقد ہونے والے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ”اے پی پی“ کو دستیاب تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں پانچ رکنی فاٹا اصلاحات کمیٹی نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ فاٹا کے ارکان پارلیمان، قبائلی عمائدین اور تمام فریقین کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد اصلاحات کیلئے چار بنیادی آپشنز کی سفارش کی ہے لیکن فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام پر وسیع اتفاق رائے ہے، ان چار آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جائے لیکن عدالتی اور انتظامی اصلاحات متعارف کرائی جائیں اور ترقیاتی سرگرمیوں پر توجہ بڑھائی جائے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی طرز پر فاٹا کونسل تشکیل دی جائے، تیسرا آپشن یہ ہے کہ فاٹا کا ایک الگ صوبہ بنایا جائے، چوتھا آپشن یہ ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا کے ساتھ اس طرح ملا دیا جائے کہ ہر ایجنسی ایک الگ ضلع ہو اور ایف آرز اینٹیگریٹڈ ہوں۔ کمیٹی کی طرف سے کی گئی وسیع تر مشاورت سے یہ بات سامنے آئی کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام پر وسیع اتفاق رائے تاہم کرم باجوڑ اور ایف آر پشاور کے سوا قبائلی عمائدین موجودہ خصوصی حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔








