وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ، ٹیکس وصولی نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، شہباز شریف
وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ، ٹیکس وصولی نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، شہباز شریف
اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید موثر، شفاف اور فیس لیس بنانے کے لیے جامع منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے ذریعے ایک خودکار، جدید اور موثر ٹیکس مینجمنٹ نظام کا یہ منصوبہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگ میل ثابت ہوگا، ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس جمعرات کو یہاں منعقد ہوا جس میں ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کیلئے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید موثر، شفاف اور فیس لیس بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔
وزیر اعظم نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے ذریعے ایک خودکار، جدید اور موثر ٹیکس مینجمنٹ نظام کا یہ منصوبہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگ میل ثابت ہوگا ۔ انہوں نے ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے نفاذ سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس نظام میں شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کی دستاویزی شکل اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ایف بی آر اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔
وزیر اعظم نے غیر قانونی سگریٹس کے خلاف موثر کارروائیوں پر صوبائی حکومتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے انکم ٹیکس وصولی کے مجوزہ آٹومیٹڈ نظام کو آزمائشی بنیادوں پر اسلام آباد سے شروع کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس کا نیا مجوزہ نظام جائیدادوں، گاڑیوں اور بینکوں کے ڈیٹا کے ذریعے کم ظاہر کی گئی آمدن اور اثاثوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بریفنگ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذریعے ٹیکس کے نظام کو خودکار، شفاف اور موثر بنایا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ، نیشنل اسیسمنٹ ونگ اور فیلڈ آپریشنز ونگ قائم کرنے کی تجویز ہے ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے سگریٹ کے شعبے سے قومی خزانے کو اس سال 40 ارب روپے اضافی ٹیکس وصولی متوقع ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین ، اعظم نذیر تارڑ، مصدق مسعود ملک ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللّٰہ تارڑ، شزافاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، معاون خصوصی ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔









