وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا حضرت لعل شہباز قلندر کے عرس کے حوالہ سے قومی ادبی سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 13 مئی۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اسلام کے خلاف منفی تاثر کو زائل کرنے کیلئے صوفیاء کرام کی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ، صوفیاء کرام کی سوچ انسانیت سے محبت، امن، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پرچار پر مبنی ہوتی ہے آئی ایم ایف بھی ایک کڑوی گولی ہے جو حکومت کو …

اسلام آباد ۔ 13 مئی۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اسلام کے خلاف منفی تاثر کو زائل کرنے کیلئے صوفیاء کرام کی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ، صوفیاء کرام کی سوچ انسانیت سے محبت، امن، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پرچار پر مبنی ہوتی ہے آئی ایم ایف بھی ایک کڑوی گولی ہے جو حکومت کو کھانا پڑی، حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو شاہ عبداللطیف سوشل اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام حضرت لعل شہبازقلندر کے 767 ویں عرس کے حوالہ سے قومی ادبی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ایم ایف کے نام پر میڈیا میں بھونچال آیا ہوا ہے، اپوزیشن کیلئے ہر دلعزیز لفظ اور جملہ آئی ایم ایف بنا ہوا ہے، پاکستان میں آئی ایم ایف اتنا مقبول ہو گیا کہ اس کا آئی ایم ایف والوں کو بھی پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بھی عوام کو ریلیف دینے کی کڑی ہے، حالات خراب ہوں تو ڈاکٹر بھی کڑوی گولی دیتا ہے، آئی ایم ایف بھی ایک کڑوی گولی ہے جو حکومت کو کھانا پڑی، آئی ایم ایف کی کڑوی گولی لانگ ٹرم ریلیف کیلئے ہے، حکومت کے اس اقدام کے بعد ملکی معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ درگاہوں، مزاروں اور صوفیاء کرام پر یقین ہے، صوفیاء کرام روحانی یونیورسٹیاں ہوتی ہیں جہاں سے لوگ ان کی تعلیمات سے فیض یاب ہوتے ہیں، ان صوفیاء کرام کی سوچ انسانیت سے محبت، امن، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پرچار پر مبنی ہوتی ہے، ان صوفیاء کرام کے مزاروں پر ہر مذہب اور نسل کے لوگ جا کر فیض حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی جیسے کینسر کا چیلنج درپیش ہے، لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر انتہاء پسندی نے دہشت گردی کا روپ دھار کر خون کی ہولی کھیلی، وزیراعظم عمران خان ملک سے اس کینسر کے علاج کیلئے مصروف عمل ہیں، اس مرض کا علاج کیموتھراپی سے کرنے کی بجائے اسے جسم سے الگ کرکے پھینک دینا چاہئے، ماضی میں اس کینسر کی بہت کیموتھراپی کی گئی لیکن یہ وقتی طور پر ختم ہو گیا لیکن پھر ابھر کر سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر دستخط کئے تاہم کسی کو اس پر عملدرآمد کی جرأت نہ ہوئی، موجودہ حکومت نے کالعدم تنظیموں کو قومی مرکزی دھارے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور کالعدم تنظیموں سے متعلق مشکل فیصلے کئے ہیں، موجودہ حکومت نے ترقی پسند سوچ پر مبنی معاشرہ کی تشکیل کیلئے بھی مشکل فیصلے کئے ہیں، جب کینسر جسم کے ایک حصہ میں پھیل جاتا ہے تو باقی جسم کو بچانے کیلئے اس حصہ کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ملک میں صوفی ازم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، صوفیاء کرام اور درگاہوں نے اپنے عمل اور امن سے اسلام پھیلایا، انہوں نے تلوار، کلاشنکوف اور بیگناہوں کی گردنیں کاٹ کر اسلام نہیں پھیلایا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام اور دانشوروں نے قلم کی طاقت سے معاشرہ میں اپنا کردار ادا کیا ہے، معاشرہ کے مثبت خدوخال کو اجاگر کرنے کیلئے اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہمیں واپس صوفیاء کے راستے پر آنا ہے، ہم اپنے راستے سے بھٹک گئے تھے، صوفی ازم کا درس فلاح انسانیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومتی پالیسیوں میں عوامی فلاح شامل نہ ہو تب تک وہ حکومت کا میاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء کرام جیسی شخصیات پر ریسرچ کیلئے سکالرشپ دئے جائیں اور نوجوانوں کی سوچ کو صوفیاء کرام کی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے یونیورسٹیوں کی سطح پر خصوصی چیپٹر تشکیل دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایات دی ہیں کہ یونیورسٹیوں میں ایسے ڈیسک بنائے جائیں جہاں نوجوانوں کو صوفیاء کرام کی تعلیمات سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے اور دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی تشخص اجاگر کیا جائے، القادر یونیورسٹی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے کیا ہے، اس یونیورسٹی کے قیام کا مقصد صوفی ازم کو سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہے، سائنس مسلمانوں کی وراثت میں شامل تھی، بدقسمتی سے وہ ہم سے دور چلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی سمیت عوام کو درپیش مسائل کے ازالہ کیلئے اقدامات کر رہی ہے، وزیراعظم کا ہدف ملک کے پسے ہوئے طبقات کے مسائل حل کرنا ہے، ان کو بااختیار بنانا ہے اور ان کو غربت کی نچلی سطح سے اوپر لانا ہے، ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہے، ہماری پالیسیوں سے اس بات کا اظہار ہو گا کہ ہم 22 کروڑ عوام کی سہولت کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد سندھ کا دورہ کروں گی اور اس دورہ کا آغاز سیہون شریف سے کروں گی۔

Leave a Reply