وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا خواتین صحافیوں کو با اختیار بنانے کے لئے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 9 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات کی سرکوبی ضروری ہے، اس سوچ کو دفن کرنے کے لئے کوشیشں اور کاوشیں جاری رکھیں گے ، حلقہ کے عوام ہر روز سیاستدان کا احتساب کرتے ہیں …

اسلام آباد ۔ 9 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات کی سرکوبی ضروری ہے، اس سوچ کو دفن کرنے کے لئے کوشیشں اور کاوشیں جاری رکھیں گے ، حلقہ کے عوام ہر روز سیاستدان کا احتساب کرتے ہیں اور جن سیاستدانوں نے عوام سے ووٹ لئے ہوتے ہیں وہ تمام وعدے پورے اور مسائل حل کرنے کے لئے تمام تر صلاحتیں اوروسائل بروئے کار لاتے ہیں ،چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کرنے کیلئے خواتین صحافیوں نے اہم کردار ادا کیا، خواتین صحافیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ضروری ہے۔ وہ پیرکو انفارمیشن سروسز اکیڈمی میں میڈیا میں خواتین صحافیوں کو با اختیار بنانے کے لئے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں ۔ ڈی جی انفارمیشن سروسز اکیڈمی ثمینہ فرزین ، تربیت دینے والی اینکر پرسن ثمینہ وقار ،آمنہ کمال اور فلم ساز سیما فاروق نے اپنے اپنے شعبوں کے حوالے سے شرکاءکو تربیت فراہم کی ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ورکشاپ کے شرکاءکوخوش آمدید کہتے ہوئے ورکشاب کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز ہم سب نے خواتین کا دن منایا ، مجھے خوشی ہے کہ ہماری خواتین میں آگاہی پیدا ہو رہی ہے، میرا کام ہے خواتین کی طاقت کو نکھارنا اور ایک ماحول پیدا کرنا تاکہ خواتین میڈیا انڈسٹری میں مزید خواتین آئیں، میڈیا انڈسٹری میں ہیوم ریسورس کی بہتری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، ہم پی ایس ڈی پی کے ذریعے اہم کردارادا کرنے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماں کی سوچ ، بیٹی کی سوچ اورمجموعی طور پر خواتین کی سوچ ہمارے معاشرے کی سوچ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، ایک بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے، جب تک تعلیم اور تربیت اچھی نہ ہو تو معاشرے کی تربیت بہتر نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین صحافیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ضروری ہے، انفارمیشن سروس اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے خواتین صحافیوں کو مواقع فراہم کریں گے ، خواتین صحافیوں کی استعداد کار میں اضافے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام شعبوں میں خواتین کو چیلنجز درپیش ہیں، ماں ، بہن اور بیٹی کی صورت میں معاشرے میں خواتین کے خوبصورت کردار ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ اور بہبود کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تعلیم اور تربیت آپس میں مل جائے تو پھر ایک کامل انسان بنا جاتا ہے ،خواتین صحافی اپنے بیانیے اور قلم کی طاقت ،ایڈووکیسی اور کمیونیکشن کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں کو پاکستان کے قومی مفاد کے ساتھ منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ حقوق اور فرائض کی ادائیگی کے حوالے سے بھی آگاہی پیدا کریں جب حقوق اور فرائض میں توازن قائم ہوجاتا ہے تو خوشحال معاشرے کی مضبوط بنیاد بن جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ میں خواتین صحافیوں کوایک دوسرے کے تجربات اور کامیابیوں سے سیکھنے کا بہترین موقع ملا ہے ،معاشرے کی ناہمواریوں سے نمٹنے اور حوصلہ افزائی سے آگے بڑھنے کے لئے مزید طاقت ملتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مرد اور خواتین صحافیوں کے تحفظ اور سلامتی سمیت مجموعی تحفظ دیکر کارآمد اور فعال شہری کے طور پر ذمہ دارانہ کردار چاہتی ہے ، صنف نازک ہوتے ہوئے میڈیا میں کہنہ مشق خواتین صحافیوں کے لئے اعزاز کی بات ہے کیونکہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں کہ وہ صحافت کرے کیونکہ گرمی، دھوپ، بارش، صبح سویرے اور رات کی تاریکی میں بھی خدمات سرانجام دینا پڑتی ہیں، صحافت میں ترقی کا ذریعہ صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہوتا ہے، روزکے اس امتحان میںچیلنجز کو مواقعوں میں بدلنا پڑتا ہے، جو یہ سب کرسکتا ہے وہ کبھی بھی ناکام یا مایوس نہیں ہوتا کیونکہ یہ اعصاب کی مضبوطی سے ہوتا ہے جب اعصاب مضبوط ہو جائیں تو پھر عارضی شکست اور فتح کے زاویے ناکام نہیں کرسکتے ۔

مزید خبریں