اسلام آباد ۔ 29 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تحفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے شہزادی اُردن سارہ زید نے جمعہ کو ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد پاکستان میں غذائی قلت سے نمٹنے کیلئے موجودہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ شہزادی سارہ زید ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی ”ماں و بچہ کی غذائیت“ کے حوالہ سے خصوصی مشیر ہیں جو …
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تحفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے شہزادی اُردن سارہ زید کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تحفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے شہزادی اُردن سارہ زید نے جمعہ کو ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد پاکستان میں غذائی قلت سے نمٹنے کیلئے موجودہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ شہزادی سارہ زید ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی ”ماں و بچہ کی غذائیت“ کے حوالہ سے خصوصی مشیر ہیں جو عالمی سطح پر بچے کے ابتدائی 1000 ایام سے دوسری سالگرہ تک اچھی غذا کی فراہمی کی جانب توجہ دلانے کی مہم چلاتی ہیں۔ غذائی قلت سے نمٹنا بھی حکومت کے تخفیف غربت پروگرام احساس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ ملاقات ورلڈ فوڈ پروگرام کے زیر اہتمام پاکستان کا دورہ کرنے والے ایک اعلیٰ سطحی مشن کا حصہ تھی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادی سارہ زید نے پاکستان میں غذائی قلت سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان کے عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ غذائی قلت کے باعث خاندانوں اور ممالک کو دیرپا نتائج سے بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میںاحساس پروگرام کے تحت حکومت پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے کثیر الاشعبہ جاتی اقدامات کو سراہتی ہوں۔ غذائی قلت کے خلاف جاری پیشرفت کی عکاسی کرنے کیلئے شہزادی سارہ زید کو احساس کے آغاز سے لے کر اب تک پانچ اہم اقدامات کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔ سب سے پہلا قدم احساس کے تحت وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان نیشنل نیوٹریشن کوآرڈینیشن کونسل کا قیام ہے جو کثیر الاشعبہ جاتی اقدمات پر عملدرآمد کیلئے ملک کی غذائیت سے متعلق اعلی ترین مربوط تنظیم ہے۔ دوسرا ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے ماں اور بچے کی صحت وغذا کیلئے ایک نیا اقدام تاکہ غذائیت سے بھر پور خوراک اور مشروط مالی معاونت کے ذریعے بچوں میں اسٹنٹنگ سے نمٹا جا سکے، یہ اقدام منصوبہ بندی کے آخری مراحل میں ہے۔ تیسرا احساس، خیبرپختونخوا اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے اشتراک سے نئے ضم شدہ غریب اضلاع میں راشن کارڈ اسکیم کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ چوتھا پرائیویٹ پبلک شراکت داری کے ذرےعے ملک بھر میں سوپ کچن (لنگر خانوں) کا افتتاح کیا گیا جس میں حکومتی لاگت صفر ہے اور اس کا مقصد غریب اور پسماندہ افراد کیلئے غذائیت سے بھر پور کھانے کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اور آخری، دیسی مرغی اور بکروں کی فراہمی کے منصوبے کوبھی ترجیح دی گئی ہے۔ اس موقع پرڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ یہ 1000 روزہ غذائی اقدام ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ ہمارا ملک غذائی قلت کے دگنے بوجھ سے دوچار ہے۔ چھوٹے بچوں میں غذائی کمی اور بعد میں اس کی زیادتی، بلند فشار خون اور ذیابیطس جیسی مہلک بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت اےسا سکہ ہے جس کے دونوں رخ درد ناک ہیں اور ہم ان کو حل کرنے کیلئے پُرعزم ہیں۔ یہ اجلاس ورلڈ فوڈ پروگرام کے زیر اہتمام پاکستان میں ایک اعلی سطحی مشن کا حصہ تھا۔ اس اجلاس میں ورلڈ فوڈ پروگرام اور اسلامک سولیڈیرٹی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔








