اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کی بندرگاہوں میں بہتری کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں،ٹاسک فورس میں شامل تمام اداروں بشمول این ایل سی کے اقدامات کی بدولت بندرگاہوں کے آپریشنز مزید موثر ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بندرگاہوں کو جدید بنانے، آپریشنل کارکردگی بڑھانے اور ٹرانس شپمنٹ ہب بنانے کی کامیاب حکمت عملی، پاکستان سنگل ونڈو اور متعلقہ اداروں …
وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کی بندرگاہوں میں بہتری کے ثمرات شروع

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کی بندرگاہوں میں بہتری کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں،ٹاسک فورس میں شامل تمام اداروں بشمول این ایل سی کے اقدامات کی بدولت بندرگاہوں کے آپریشنز مزید موثر ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بندرگاہوں کو جدید بنانے، آپریشنل کارکردگی بڑھانے اور ٹرانس شپمنٹ ہب بنانے کی کامیاب حکمت عملی، پاکستان سنگل ونڈو اور متعلقہ اداروں کے انضمام سے کسٹمز کلیئرنس کا نظام بہتر بنایا گیا ہے۔وی باک (WeBOC) سسٹم کی اپ گریڈیشن اور پورٹ کمیونٹی سسٹم کے نفاذ سے کلیئرنس میں نمایاں تیزی آئی ہے ، جہاز کی آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے اور قومی بندرگاہوں میں ہم آہنگی، یکساں ٹیرف اور مختلف کارگو کے لیے بندرگاہوں کو مخصوص کرانے کیلئے پالیسیوں پر عمل درآمد کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ریلوے نیٹ ورک، ٹریک اینڈ ٹریس اور بانڈڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کو مضبوط بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں،ڈیجیٹلائزیشن، آٹومیشن اور اسپیس مینجمنٹ سے بندرگاہوں پر رش میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ٹرانس شپمنٹ ضوابط اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ٹاسک فورس کی سفارشات اور عمل درآمد سے پاکستان کے علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بننے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔








