وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کا ایشیائی ترقیاتی بینک اوراقوام متحدہ کے اقتصادی وسماجی کمیشن برائے ایشیا وبحرالکاہل کے زیراہتمام آن لائن سیمینارسے خطاب

اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ کووڈ۔ 19 کی وبا سے پیداہونے والی صورتحال اورمسائل کو کم کرنے میں عالمی برادری کی اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، ترقی یافتہ اورامداددینے والے ممالک کی جانب سے ترقی پذیر اورکمزورمعیشتوں کیلئے قرضوں میں ریلیف اس ضمن میں موثر اقدام ثابت ہوسکتاہے، پاکستان گروپ 20 ممالک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی …

اسلام آباد ۔ 31 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ کووڈ۔ 19 کی وبا سے پیداہونے والی صورتحال اورمسائل کو کم کرنے میں عالمی برادری کی اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، ترقی یافتہ اورامداددینے والے ممالک کی جانب سے ترقی پذیر اورکمزورمعیشتوں کیلئے قرضوں میں ریلیف اس ضمن میں موثر اقدام ثابت ہوسکتاہے، پاکستان گروپ 20 ممالک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت اورآئی ایم ایف ، عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اوراقوام متحدہ کے دیگراداروں کی جانب سے فوری معاونت کے اقدامات کو سراہتاہے، ترقی پذیر اورکم آمدنی والے ممالک کودرپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے عالمی عزم اورتعاون کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک اوراقوام متحدہ کے اقتصادی وسماجی کمیشن برائے ایشیا وبحرالکاہل کے زیراہتمام آن لائن سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیراعظم کے مشیرنے کہاکہ کووڈ۔ 19 کی وجہ سے دنیا ایک سنگین صورتحال کا سامنا کررہی ہے، درحقیقت یہ 1930 کی عظیم کسادبازاری سے بھی بدترین صورتحال ہے،دنیا کووڈ 19 کی وبا کیلئے تیارنہیں تھی۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے دیگرممالک کی طرح پاکستان بھی اس عالمگیر وبا سے متاثرہوا، پاکستان نے اس وبا سے نمٹنے اوراپنی معیشت اورشہریوں کوبچانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے،حکومت نے معیشت میں کیش شامل کرنے کے لئے ایک پروگرام بنایا تاکہ کاروبارکیلئے کیش کا مسئلہ پیدانہ ہوں، اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو نقدامدادکی فراہمی کیلئے پروگرام شروع کیاگیا تاکہ مشکل وقت میں ان کیلئے آسانیاں پیدا کی جاسکے روزگارکو بچانے کیلئے بھی سبسڈیزاورپے رول اخراجات کے ضمن میں پروگرام متعارف کرائے گئے۔ وزیراعظم کے مشیرنے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ کووڈ۔ 19 سے پیداہونے والی صورتحال اورمسائل کو کم کرنے میں عالمی برادری کی کوششیں ناگزیر ہیں، ترقی یافتہ اورامداددینے والے ممالک کی جانب سے ترقی پذیر اورکمزورمعیشتوں کیلئے قرضوں میں ریلیف اس ضمن میں ایک فوری ریلیف کا قدم ثابت ہوسکتاہے، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی اس ضمن میں عالمی برادری اوررہنماوں سے اپناکرداراداکرنے کیلئے کہاہے، پاکستان گروپ 20 ممالک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت اورآئی ایم ایف ، عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اوراقوام متحدہ کے دیگراداروں کی جانب سے فوری معاونت کے اقدامات کو سراہتاہے۔ وزیراعظم کے مشیرنے کہاکہ پاکستان نیدورلینڈاورافریقی یونین کے ساتھ مل کرڈیبٹ ورنل ایبلیٹی گروپ کے شریک چئیرمین کا کرداراداکررہاہے، یہ گروپ کئی تجاویز اورسفارشات پرکام کررہاہے،پہلی تجویز یہ ہے کہ گروپ 20 کے قرضہ موخرومعطل کرانے کے اقدام (ڈی ایس ایس آئی) کیکم سے کم ایک سال کی مدت مقررکی جائے ، اسی طرح ئی تجویزبھی سامنے آئی ہے کہ کووڈ۔ 19 سے متاثرہ ترقی پذیرممالک کی کریڈٹ ریٹنگ متاثرنہیں ہونا چاہئیے، گروپ 20 کے ممالک نے کثیرالجہتی اورترقیاتی بینکوں سے بھی اس عمل میں شامل ہونے کیلئے کہاہے جوایک مثبت اقدام ہے،عالمی بینک نے آئندہ 15 ماہ میں 160 ارب ڈالر کی معاونت کا پروگرام ترتیب دیاہے،اس کا مناسب حصہ قرضہ موخرومعطل کرانے کے اقدام (ڈی ایس ایس آئی) میں شامل ممالک کیلئے دستیاب ہونا چاہئیے۔انہوں نے کہاکہ درمیانی آمدنی والے ممالک کی معیشتیں بھی کووڈ۔ 19 سے متاثرہوئی ہیں، ڈی ایس ایس آئی میں ان ممالک کو بھی شامل کرناضروری ہے۔ڈیبٹ ورنل ایبلیٹی گروپ نے دیگرشعبوں کی بھی نشاندہی کی ہے جہاں معاونت کی فراہمی ضروری ہے،گروپ افریقی اقتصادی کمیشن کی ایک تجویز پربھی غورکررہا ہے جس میں پائیداربنیادوں پرلیکویڈٹی کی فراہمی کی سفارش کی گئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے ابھرتی ہوئی منڈیوں میں کم سودکے حامل قرضوں کی فراہمی میں مددملی گی، اسی طرح کی سہولت کم آمدنی والے ممالک کوفراہم کرنے کا بھی جائزہ لینا چاہئیے۔وزیراعظم کے مشیرنے کہاکہ ترقی پذیر اورکم آمدنی والے ممالک کودرپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے عالمی عزم اورتعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کووڈ۔ 19 کے تناظر میں ہمیں نہ صرف سرمایہ کاری کے مقدار بلکہ معیارپربھی توجہ دینا ہوگی،حکومتی فنڈز کا ایک بڑاحصہ ایسے ضائع ہونے والے پراجیکٹ کو جاتاہے، ہمیں فنڈز اورخراجات مختص کرنے کی استعدادمیں بہتری لانا ہوگی۔انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری اوراقتصادی بڑھوتری کیلئے ہمیں مقامی اوربین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے مراعات اورترغیبات کا نئے سرے سے تعین کرناہوگا۔اسی طرح ہمیں ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی جس سے پیداوارمیں اضافہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت سرکاری اورنجی شعبہ کے درمیان شراکت داری پرتوجہ دے رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اگرہم نے درست اورمناسب ترغیبات کے ساتھ سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کئے تو کان کنی، ٹرا نسپورٹ، ہائی ویز، بجلی ،پانی، ویسٹ منیجمنٹ اورماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوسکتاہے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہاکہ حکومت قرضوں کے بہترانتظام وانصرام اورقرضوں کے اخراجات کو کم کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

مزید خبریں