وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کاکاروباری شخصیات میں ٹیکس ریفنڈ کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 02اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ حکومت کے اقتصادی پیکج کا مقصدوعالمگیر وباءکے اثرات سے متاثرہونے والے طبقات اورشعبوں کو معاونت فراہم کرناہے، ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں 30 ارب روپے کی ادائیگی ، فاسٹرنظام کے تحت مزید10 ارب روپے، غیربرآمدی شعبہ کو ٹیکس ری فنڈ کی مد میں 52 ارب روپے اورڈیوٹی ڈرابیک کی مد میں 15 …

اسلام آباد ۔ 02اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ حکومت کے اقتصادی پیکج کا مقصدوعالمگیر وباءکے اثرات سے متاثرہونے والے طبقات اورشعبوں کو معاونت فراہم کرناہے، ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں 30 ارب روپے کی ادائیگی ، فاسٹرنظام کے تحت مزید10 ارب روپے، غیربرآمدی شعبہ کو ٹیکس ری فنڈ کی مد میں 52 ارب روپے اورڈیوٹی ڈرابیک کی مد میں 15 ارب روپے کی ادائیگی کاعمل ایک ہفتے کی مدت میں مکمل ہوگا ،امدادی پیکج میں مختص رقوم کی شفاف تقسیم کیلئے ہمارا تمام صوبوں کے ساتھ رابطہ ہے ۔ان خیالات کااظہارانہوںنے جمعرات کو یہاں کاروباری شخصیات میں ٹیکس ریفنڈ کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ کرونا وائرس کی وباءکی وجہ سے جو بحران آیاہے اس سے نمٹنے کیلئے حکومت نے 1200 ارب روپے سے زائد مالیت کاامدادی پیکج متعارف کرایاہے، اس پیکج کامقصد ان شہریوں اورشعبوں کو معاونت فراہم کرناہے جوعالمگیروباءکے اثرات سے متاثرہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ افرادکوحفاظت، انہیں اشیاءخواراک کی فراہمی اور بحران کے دنوں میں انہیں نقد امدادہماری اولین ترجیح ہے، اس ضمن میں ایک روزقبل وزیراعظم نے ڈیڑھ سوارب روپے کے پروگرام کاافتتاح کردیاہے جس کے تحت ایک کروڑ20 لاکھ خاندانوں یا ملک کی ایک تہائی آبادی کونقد امداد کی فراہمی عمل میں لائی جائیگی۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ کرونا کی وباءسے کاروباری برادری پرپڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے پانچ بڑے فیصلے کئے ہیں ،متاثرہ ملازمین کی امداد کیلئے 200 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں، چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارکے مالکان اورملازمین کی امدادکیلئے 100 ارب روپے امدادی پیکج میں شامل ہیں،ا س کے علاوہ ایس ایم ایزکے زمہ قرضوں اورسود کی ادائیگی میں سہولیات اوررعائتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں،برآمدکنندگان کو100 ارب روپے کے ری فنڈزکی ادائیگی کی جارہی ہے اورآج کی تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،بجلی اورگیس کے بلوں کی ادائیگی میں بھی سہولت فراہم کی گئی ہے، ان بلوں کی ادائیگی میں تین ماہ کی رعایت دی گئی ہے اوراس کے جواخراجات آئیں گے وہ حکومت برداشت کرے گی،اس مقصد کیلئے امدادی پیکج میں 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں، پیٹرول، ڈیزل اوردرآمدی تیل کی قیمت کم کرنے کیلئے امدادی پیکج میں 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ اشیاءخوراک پرڈیوٹی اورٹیکس ختم کردئیے گئے ہیں ، اسی طرح گندم کی خریداری کیلئے 200 ارب روپے سے زائد کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں تاکہ ہمارے کاشت کاروں کے پاس نقدآئے اورمعیشت میں طلب میں اضافہ کوممکن بنایا جاسکے۔وزیراعظم کے مشیرنے ری فنڈز کی مد میں 100 ارب روپے کی ادائیگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں 30 ارب روپے کی ادائیگی ، فاسٹرنظام کے تحت مزید10 ارب روپے، غیربرآمدی شعبہ کو ٹیکس ری فنڈ کی مد میں 52 ارب روپے اورڈیوٹی ڈرابیک کی مد میں 15 ارب روپے دئیے جارہے ہیں۔یہ تقریباً 107 اب روپے کا پیکج ہے جوحکومت اس مشکل کے دور میں اپنے تاجرطبقہ کی امدادکیلئے دے رہاہے، یہ عمل ایک ہفتے کی مدت میں مکمل ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس ادائیگی کے بعد سیلزٹیکس ری فنڈ کی مد میں کوئی بقایا جات باقی نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تاجراوربزنس کمیونٹی کی مدد اورتعاون کا سلسلہ جاری رکھے گی، امدادی پیکج میں مختص رقوم کی شفاف تقسیم کیلئے ہمارا تمام صوبوں کے ساتھ رابطہ ہے اوراس بات کو یقینی بنایا جارہاہے کہ عوام کاپیسہ شفاف انداز میں مستحقین تک پہنچایا جائے۔

مزید خبریں