وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 24 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بجٹ پورے سال کا پیش کیا جاتا ہے، 3 ماہ کا بجٹ کسی صورت بھی ممکن نہیں کیونکہ پالیسیاں پورے سال ہی کے لیے بنائی جاتی ہیں، ہر 3 ماہ کے بعد ہم اپنی پالیسیاں تو تبدیل نہیں کر سکتے۔ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ …

اسلام آباد ۔ 24 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بجٹ پورے سال کا پیش کیا جاتا ہے، 3 ماہ کا بجٹ کسی صورت بھی ممکن نہیں کیونکہ پالیسیاں پورے سال ہی کے لیے بنائی جاتی ہیں، ہر 3 ماہ کے بعد ہم اپنی پالیسیاں تو تبدیل نہیں کر سکتے۔ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ سب لوگ بھی یہ ساری باتیں سمجھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ سندھ اور بلوچستان حکومت بھی اپنا بجٹ پیش کریں گی،ایک ماہ قبل اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں میری شیریں مزاری اور نوید قمر سے ملاقات ہوئی جس میں ہم سب نے اتفاق کیا کہ ہم بجٹ پیش کریں گے جس کے بعد ہم نے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو خط بھی لکھے کہ آپ بھی اپنے صوبائی بجٹ کی تیاری کریں،میں یہ اس لیے ہی جلدی پیش کر رہا ہوں کہ صوبوں کو بھی وقت ملے اور وہ بھی اپنا بجٹ پاس کر سکیں تاکہ صوبوں کا کام بھی نہ رکے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک کے شہری ہیں اور اپنے وطن سے مخلص بھی ہیں اس لیے ایک ذمہ دارانہ بجٹ پیش کیا جائے گا کیونکہ ہم نے پوری دنیا کو ساتھ لیکر چلنا ہے،انشااللہ گزشتہ سالوں کی نسبت کم خسارے کا بجٹ پیش کریں گے اور بجٹ کے بعد بھی کمیٹیوں کے اندر ہونے والی باتوں پر غور کیا جائے گا،انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) میں ہونے والی پریزنٹیشن کے آغاز ہی میں جب ابھی سیکرٹری پلاننگ نے پہلا صفحہ ہی شروع کیا تھا کہ عبدالقدوس بزنجو، مراد علی شاہ اور پرویز خٹک تینوں وزرائے اعلیٰ صاحبان نے کہا کہ ہمیں قابل قبول نہیں جس پر میں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے یہ کہا کہ اگر یہ منظور نہیں تو اگلے ایجنڈے پر آ جاتے ہیں لیکن انہوں نے بلا وجہ واک آﺅٹ کر دیا، یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پی ایس ڈی پی کو این ای سی پاس نہیں کرتی بلکہ اسے پاس کرنے کا مینڈیٹ قومی اسمبلی کے پاس ہوتا ہے اور قومی اسمبلی ہی اسے پاس بھی کرتی ہے جس طرح صوبائی بجٹ کو صوبائی اسمبلیاں پاس کرتی ہے۔