وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے جاز کے وفد کی ملاقات، ایس ایم ایز کی ڈیجیٹل تبدیلی کے امکانات پر غور

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے جاز کے وفد کی ملاقات، ایس ایم ایز کی ڈیجیٹل تبدیلی کے امکانات پر غور

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے جاز کے ایک وفد نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ڈیجیٹل تبدیلی، مالیاتی شمولیت اور ترقی کو تیز کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔جمعرات کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور جاز کے درمیان عملی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ جاز کی ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ملک گیر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان بھر کے ایس ایم ایز کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے ایس ایم ایز کے لیے سستے اور موثر ڈیجیٹل سلوشنز متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کی پیداواری صلاحیت، صارفین سے روابط، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ریکارڈ رکھنے اور مجموعی کاروباری انتظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں اور ریٹیلرز کے لیے ڈیجیٹل فنانسنگ اور موبائل پر مبنی قرضوں کے نئے مواقع تلاش کیے جانے چاہئیں خصوصاً ان کاروباروں کے لیے جو روایتی مالیاتی ذرائع سے خاطر خواہ سہولیات حاصل نہیں کر پا رہے۔ ڈیجیٹل سلوشنز ایسے کاروباروں کو مالیاتی خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنے اور وسیع تر مالیاتی شمولیت کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ چھوٹی دکانوں اور ریٹیل کاروباروں کے لیے خصوصی ڈیجیٹل سلوشنز تیار کیے جانے چاہئیں جن میں ڈیجیٹل ادائیگیاں، انوینٹری مینجمنٹ، کسٹمر مینجمنٹ اور دیگر ایسے ٹولز شامل ہوں جو کاروباری کارکردگی اور مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ایز کو وسیع تر کمرشل ویلیو چینز کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر مربوط کرنا بھی اہم ہے جس سے انہیں سپلائرز، صارفین، مارکیٹس اور مالیاتی خدمات تک زیادہ موثر رسائی حاصل ہو سکے گی۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ چھوٹی دکانوں اور ریٹیل کاروباروں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی سلوشنز کو بھی ایس ایم ایز کی وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن پیکیج کا حصہ بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر نے جاز کے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) پروگرام کے تحت ایس ایم ایز سے متعلق منتخب پائلٹ منصوبوں کی مفت بنیادوں پر معاونت کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پائلٹ منصوبوں کے ذریعے قابلِ پیمائش نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جس کے بعد کامیاب ماڈلز کو قومی سطح پر وسعت دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پائلٹ منصوبوں کے لیے واضح اور قابل پیمائش کارکردگی کے اشاریے مقرر کیے جائیں جن میں ڈیجیٹلائز کیے جانے والے ایس ایم ایز کی تعداد، کاروباری اداروں کی آن بورڈنگ، فراہم کردہ فنانسنگ، پیداواری صلاحیت میں بہتری، فروخت میں اضافہ اور نئی منڈیوں تک رسائی جیسے عوامل شامل ہوں۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ سمیڈا ایس ایم ای ایکو سسٹم، پالیسی رہنمائی، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور کاروباری اداروں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے جبکہ جاز اپنی ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی شعبے کی صلاحیتوں کے ذریعے تعاون کر سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ تعاون روایتی ادارہ جاتی روابط تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے عملی حل پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے جو ایس ایم ایز کے لیے قابل پیمائش معاشی فوائد پیدا کر سکیں۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستانی ایس ایم ایز کو زیادہ پیداواری، ڈیجیٹل طور پر بااختیار، مالیاتی طور پر شامل اور ملکی و عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ملکی و عالمی منڈیوں میں پاکستانی ایس ایم ایز کی مسابقتی صلاحیت مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ فنانس، مارکیٹس، ٹیکنالوجی اور کاروباری خدمات تک بہتر رسائی سے ایس ایم ایز کی ترقی کی صلاحیت کو مزید بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔ملاقات میں سمیڈا اور جاز کے درمیان دیرپا تعاون کے لیے ایک موثر فریم ورک کے امکانات کا جائزہ لیا گیا جس میں ایسے قابل توسیع ڈیجیٹل سلوشنز کی تیاری پر زور دیا گیا جو مستقبل میں ملک بھر کے ایس ایم ایز کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکیں۔