اسلام آباد ۔ 2 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے سہ ماہی ادبیات کے خصوصی شمارہ ”انتظار حسین نمبر“ کےلئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انتظار حسین ایک ہمہ جہت صاحب قلم تھے جنہوں نے اخباری کالموں ، بچوں کی کہانیوں، تراجم، تذکروں، تنقید، سفرناموں اور صحافتی تحریروں میں طبع آزمائی کی۔ یہ پیغام انہوں نے سہ ماہی”ادبیات“ کے …
وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی کا سہ ماہی ادبیات کے خصوصی شمارہ ”انتظار حسین نمبر“ کےلئے پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے سہ ماہی ادبیات کے خصوصی شمارہ ”انتظار حسین نمبر“ کےلئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انتظار حسین ایک ہمہ جہت صاحب قلم تھے جنہوں نے اخباری کالموں ، بچوں کی کہانیوں، تراجم، تذکروں، تنقید، سفرناموں اور صحافتی تحریروں میں طبع آزمائی کی۔ یہ پیغام انہوں نے سہ ماہی”ادبیات“ کے انتظار حسین نمبر(شمارہ نمبر111-12،جنوری تا جون2017ئ) کی اشاعت پر کہی۔عرفان صدیقی نے کہا کہ انتظار حسین ایک ہمہ جہت صاحب قلم تھے جنہوں نے اخباری کالموں ، بچوں کی کہانیوں، تراجم، تذکروں، تنقید، سفرناموں اور صحافتی تحریروں میں طبع آزمائی کی۔ اس بسیارنویسی کے باوجود وہ جس شعبے میں گئے اپنی چھاپ چھوڑ آئے اس سے انتظار حسین کی فکری شادابی و زرخیزی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن افسانہ اُ ن کی اصل جولاں گاہ ٹھہرا اور انہوں نے اس صنفِ ادب کو اس قدر مالا مال کردیا کہ اُن کا نام اَمر ہوگیا۔ اُن کے ناول، ان کے افسانوں ہی کی طرح مقبول ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت منعقد ہ تعزیتی تقریب میں ایک جملہ کہا تھا ”ایک اور انتظار حسین کےلئے ہمیں صدیوں انتظار کرنا ہو گا“۔ میں آج یہ جملہ زیادہ پختہ یقین سے دہرارہا ہوں، میں اکادمی ادبیات پاکستان کے چےئرمین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو اور ان کے رفقاءکو اس بیش قیمت کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ”ادبیات“ کا یہ ضخیم انتظار حسین نمبر کے اسلوبِ فن پر ایک جامع کتاب کی حیثیت سے سراہا جائے گا۔








