اسلام آباد۔ 31 دسمبر (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بھاری عوامی مینڈیٹ رکھنے والے منتخب وزیراعظم کی ایک عدالتی فرمان کے ذریعے رخصتی سالِ گزشتہ کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ ستر برس سے چلی آنے والی روایت کا 2017ءمیں بھی جاری رہنا نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔ یہ بات انہوں نے پی ٹی وی کے پروگرام ”پیش …
وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی کی ٹی وی پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 31 دسمبر (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بھاری عوامی مینڈیٹ رکھنے والے منتخب وزیراعظم کی ایک عدالتی فرمان کے ذریعے رخصتی سالِ گزشتہ کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ ستر برس سے چلی آنے والی روایت کا 2017ءمیں بھی جاری رہنا نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔ یہ بات انہوں نے پی ٹی وی کے پروگرام ”پیش رفت“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً دو درجن وزرائے اعظم میں سے کسی ایک کو بھی اپنی آئینی مدت اقتدار پوری نہیںکرنے دی گئی۔ وجوہات اور اسباب مختلف تھے، لیکن نتیجہ ایک ہی نکلا ۔ نواز شریف کو ایک بار صدارتی حکم نامے، دوسری بار مارشل لاءاور تیسری بار ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے معزول کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی کرپشن، منی لانڈرنگ، فیکٹریوں، فلیٹوں یا مالی بدعنوانی کی بنیاد پر نہیں صرف اس بنیاد پر سامنے آیا کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے ایک معمولی سی خیالی تنخواہ نہیں لی۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ اس فیصلے سے نواز شریف ہی کو نہیں ملک و قوم کو بھی نقصان پہنچا ۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ نواز شریف کے قدکاٹھ کے سامنے خود کو بونا خیال کرنے والے جو مرضی ہے کہتے رہیں۔ نواز شریف پوری مضبوطی کے ساتھ سیاست کے میدان میں کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔ افواہیں اڑانے اور اپنی خواہشات کو خبروںکا رنگ دینے والے نہیں جانتے کہ دلوں میںبسنے والے لیڈر نہ جلاوطن ہوتے ہیں نہ نااہل۔ بھٹو پھانسی پانے اور کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی ایک سیاسی حقیقت ہے۔








