اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور نواز شریف امن کے پیامبر ہیں، وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں جس دلیری، حوصلہ اور وژن کے ساتھ کشمیر اور کشمیریوں کا مقدمہ لڑا پوری قوم اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، لائن آف کنٹرول کے پار دشمن ہماری امن کی خواہش کو غلط رنگ …
وزیراعظم کے معاون آصف کرمانی کا شاہ اﷲ دتہ میں عوامی اجتماع سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور نواز شریف امن کے پیامبر ہیں، وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں جس دلیری، حوصلہ اور وژن کے ساتھ کشمیر اور کشمیریوں کا مقدمہ لڑا پوری قوم اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، لائن آف کنٹرول کے پار دشمن ہماری امن کی خواہش کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے، دشمن دھمکیاں کسی اور کو دے یہ بازو آزمائے ہوئے ہیں، آج پاکستان کا بچہ بچہ، مرد و زن اپنی حکومت اور افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، اگر کسی نے میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھنے کی غلطی کی تو اس آنکھ کو پھوڑ دیں گے۔ جمعہ کو یہاں مقامی گاﺅں شاہ اﷲ دتہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی سے وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کی عالمی رہنماﺅں نے تعریف کی اور کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے بالکل صحیح بات کی ہے جبکہ بھارتی وزیر خارجہ نے تاریخ کو مسخ کیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین کی۔ ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف پاکستان کے بچوں کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، ہم خطہ میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی عزت کیلئے کٹ مرنے کیلئے تیار ہیں، آج قوم کو 1965ءکی جنگ کا وقت یاد آ رہا ہے جس نے دشمن کو بری طرح شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی حالیہ جارحیت سے پاکستان کے دو فوجی شہید ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کے عوام اور فوج کو یقین دلایا کہ حکومت جاگ رہی ہے اور دشمن بھاگ رہا ہے۔ انہوں نے آج کی خوبصورت شام کو پاک فوج کے شہداءکے نام کرتے ہوئے کہا کہ شہداءنے ہمارے کل کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے برہان وانی اور تحریک آزادی کشمیر کیلئے قربانیاں دینے والوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا کہ مجھے آج جلسہ گاہ میں ہر طرف مسلم لیگ اور نواز شریف کے متوالے نظر آ رہے ہیں۔








