اسلام آباد ۔ 14 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور برطانیہ میں زیر التواءمقدمات کی رفتار تیز کرنے کے لئے آئندہ ہفتے لندن میں منظم اورسنجیدہ جرائم کے انسداد کیلئے برطانوی ایجنسی کے سربراہ سے گفت و شنید ہو گی، سابقہ حکومت نے سوئٹزر لینڈ کی حکومت سے معاہدہ کرنے میں پانچ سال ضائع …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی وزیراعظم کے مشیر برائے میڈیا امور افتخار درانی کے ہمراہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور برطانیہ میں زیر التواءمقدمات کی رفتار تیز کرنے کے لئے آئندہ ہفتے لندن میں منظم اورسنجیدہ جرائم کے انسداد کیلئے برطانوی ایجنسی کے سربراہ سے گفت و شنید ہو گی، سابقہ حکومت نے سوئٹزر لینڈ کی حکومت سے معاہدہ کرنے میں پانچ سال ضائع کر دیئے، سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے اکاﺅنٹس سے متعلق جامع معلومات کے حصول کے لئے کام جاری ہے، سوئس اکاﺅنٹس میں 200 ارب ڈالر زکا اسحاق ڈار ہی بتاسکتے ہیں، ماضی میں ہر سال 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی رہی، احتساب کا عمل شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، نیب اوردیگر ادارے آزاد ہیں اوراپنا کام احسن طریقے سے کررہے ہیں ، سیاسی مداخلت پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ماضی میں اس کی وجہ سے ادارے تباہ ہوئے ہیں، معلومات کی شیئرنگ کے لئے چین اور دبئی کی حکومت کے ساتھ معاہدے کرنے جا رہے ہیں، جرمنی کی حکومت سے سوئس بنکوں سے متعلق لیک ڈیٹا کے حصول کیلئے رابطہ کرلیا گیاہے ۔ اتوار کو یہاں وزیراعظم کے مشیر برائے میڈیا امور افتخار درانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام کو ماضی میں ہونے والی منی لانڈرنگ اور کرپشن کے خلاف حکومت کے اقدامات سے آگاہ رکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اندھا دھند قرضہ لینے کی پالیسی کے نتیجے میں اس وقت ہم 30 ہزار ارب روپے کے مقروض ہیں، حکومتی شعبے میں کام کرنے والے بیشتر ادارے خسارے میں جا رہے ہیں ، سرکاری شعبے میں چلنے والے اداروں اورکارپوریشنوں کا کا خسارہ ایک ٹریلین سے زیادہ ہو چکا ہے۔








