اسلام آباد ۔ 2 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ 90ءکی دہائی سے سیاست میں آنے والے ایک خاندان نے قومی خزانہ کو بےدردی سے لوٹے ہوئے ہنڈی حوالہ سے رقوم بیرون ممالک بھجوا کر محلات اور جائیدادیں بنائیں، شہباز شریف کے بعد مریم نواز کو بھی ہل میٹل سے مختلف ٹیلی گرافک ٹرانسفر کے ذریعے 66.9 ملین منتقل ہوئے، …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس
اسلام آباد ۔ 2 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ 90ءکی دہائی سے سیاست میں آنے والے ایک خاندان نے قومی خزانہ کو بےدردی سے لوٹے ہوئے ہنڈی حوالہ سے رقوم بیرون ممالک بھجوا کر محلات اور جائیدادیں بنائیں، شہباز شریف کے بعد مریم نواز کو بھی ہل میٹل سے مختلف ٹیلی گرافک ٹرانسفر کے ذریعے 66.9 ملین منتقل ہوئے، یہ ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کئے گئے، قومی احتساب بیورو کو یہ اضافی نئے دستاویزی ثبوت تحقیقات کے لئے بھجوا دیئے ہیں۔ جمعہ کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بتایا کہ شہباز شریف اور ان کی فیملی کی ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی) سامنے لائیں تو ادھر سے اعلان کیا گیا کہ مجھے برطانیہ کی عدالتوں میں جانا پڑے گا، میں اس کیلئے تیار تھا لیکن ابھی تک یہ نوبت نہیں آئی لیکن آج جن نئی ٹی ٹیز کا انکشاف کرنے جا رہا ہوں امید ہے کہ اس کے بعد مجھے برطانوی عدالتوں میں جانا پڑے گا۔ معاون خصوصی نے کہاکہ اومنی گروپ کے ٹرانزیکشن کے حوالے سے ایک دوسرے خاندان نے بھی فائدے اٹھائے تاہم اومنی نے 2.1 ارب روپے کی پلی بارگین کے بعد 20 ملین کی پلی بارگین حال ہی میں کی ہے۔ تمام جعلی اکاﺅنٹ اومنی نے استعمال کئے۔ انہوں نے بتایا کہ 90ءکی دہائی میں ایک خاندان اقتدار میں آیا اور اس نے ایک ایسا قانون بنایا جس سے بیرون ممالک سے آنے والے پیسوں پر ٹیکس اور وجوہات کے حوالہ سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ اس خاندان نے 90ءکی دہائی سے 2018ءتک قومی خزانہ کو بے دردی سے لوٹا۔ اسی خاندان نے پاکستانی خزانہ کو ہنڈی حوالہ کے ذریعے بیرون ممالک رقوم بھجوائیں اور بیرون ملک جائیدادیں اور محلات بنانے کا کلچر متعارف کرایا۔ یہ تمام چیزیں جے آئی ٹی کے سامنے آ چکی ہیں۔









