وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو

اسلام آباد ۔ 6 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے کیلئے 18 نئے بلاکس کی نیلامی کیلئے 8 جنوری کو بین الاقوامی ٹینڈر جاری کیا جائے گا، قدرتی وسائل پر ملک کے تمام شہریوں کا مساوی حق ہے، سندھ میں پیدا اور خرچ ہونے والی گیس …

اسلام آباد ۔ 6 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے کیلئے 18 نئے بلاکس کی نیلامی کیلئے 8 جنوری کو بین الاقوامی ٹینڈر جاری کیا جائے گا، قدرتی وسائل پر ملک کے تمام شہریوں کا مساوی حق ہے، سندھ میں پیدا اور خرچ ہونے والی گیس میں بہت معمولی فرق ہے اور صوبے سے باہر بہت کم مقدار میں گیس جا رہی ہے۔ وہ پیر کو یہاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان اور سیکرٹری پٹرولیم میاں اسد حیاءالدین بھی موجود تھے۔ ندیم بابر نے کہا کہ ہم ملک کے اندر گیس کی پیداوار بڑھانے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں کیونکہ گیس کی پیداوار سالانہ 7 فیصد کی شرح سے کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سابق حکومت نے گیس کی پیداوار بڑھانے کیلئے ایک بھی بلاک نیلام نہیں کیا اور طویل عرصہ سے کوئی بڑے ذخائر دریافت نہیں ہوئے۔ گیس کی فراہمی کے حوالہ سے سندھ کی موجودہ صورتحال سے متعلق انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت قدرتی وسائل کی رائلٹی صوبوں کے پاس جاتی ہے جبکہ پالیسی سازی کا عمل مشترکہ مفادات کونسل اور روزانہ کے انتظامی معاملات وزارت دیکھتی ہے، قدرتی وسائل پر ملک کے تمام شہریوں کا مساوی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں وفاق کا مو¿قف ہے کہ ملک بھر میں پائپ لائنوں سے گیس حاصل کرنے والا گھریلو شعبہ ترجیحی طور پر گیس حاصل کرے گا اور اس کے بعد صوبے دیگر ترجیحی شعبوں کو بقایا حصہ سے گیس فراہم کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ندیم بابر نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ پچھلے 10 سال کے دوران سندھ اور بلوچستان میں دریافت ہونے والے زیادہ تر ذخائر سوئی ناردرن گیس کمپنی کیلئے مختص کئے گئے۔ سندھ میں پیدا اور خرچ ہونے والی گیس میں بہت معمولی فرق ہے اور صوبے سے باہر بہت کم مقدار میں گیس جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے تقریباً 2200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی پیداوار ہے جس میں سے اس وقت سوئی سدرن گیس کمپنی کو 1224 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جا رہی ہے جبکہ تقریباً 750 سے 800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس براہ راست سندھ میں تین بجلی گھروں اور کھاد کے یونٹس کو دی گئی ہے۔ پچھلے سال فروری سے پٹرولیم ڈویژن سندھ حکومت سے درخواست کر رہا ہے کہ تین پائپ لائنوں کیلئے جگہ فراہم کرے جو ہمارے ٹرانسمیشن نیٹ ورک کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں لیکن سندھ حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تاہم بار بار درخواست کے بعد سندھ حکومت نے اب 25 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سسٹم میں لانے کیلئے ایک نئی فیلڈ تک صرف ایک پائپ لائن کیلئے جگہ فراہم کرنے کی زبانی اجازت دی ہے، امید ہے کہ اس سلسلہ میں دستاویزی عمل 10 سے 15 دنوں میں مکمل ہو جائے گا