ٹوکیو۔15اگست (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے جاپان میں پاکستان کے سفیر عبد الحمید کے ہمراہ جاپان کی وزارت معیشت، تجارت و صنعت (ایم ای ٹی آئی) کے بین الاقوامی امور کے نائب وزیر معالیہ متسوئو تکہیکو (H.E. MATSUO Takehiko) سے ٹوکیو میں اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان اور جاپان کے درمیان صنعتی تعاون کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا …
وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر کی ایم ای ٹی آئی کے بین الاقوامی امور کے نائب وزیر سے ملاقات، اعلیٰ سطحی صنعتی تعاون بارے تبادلہ خیال

مزید خبریں
ٹوکیو۔15اگست (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے جاپان میں پاکستان کے سفیر عبد الحمید کے ہمراہ جاپان کی وزارت معیشت، تجارت و صنعت (ایم ای ٹی آئی) کے بین الاقوامی امور کے نائب وزیر معالیہ متسوئو تکہیکو (H.E. MATSUO Takehiko) سے ٹوکیو میں اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان اور جاپان کے درمیان صنعتی تعاون کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا، خاص طور پر آٹو موٹیو اور آئی ٹی شعبوں پر توجہ دی گئی۔ جاپان نے پاکستان کی بڑی اور نوجوان آبادی، بڑھتی ہوئی منڈی کی صلاحیت اور ملک میں پہلے سے کام کرنے والی 70 سے زائد جاپانی کمپنیوں کی موجودگی کو تسلیم کیا۔ بات چیت میں پاکستان کی نئی صنعتی پالیسی پر غور کیا گیا جو برآمدات میں اضافہ، محصولات میں کمی، ریگولیٹری اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے، جو وزیراعظم کے برآمدات پر مبنی ترقی کے وژن کے مطابق ہے اور 6 سے 7 فیصد سالانہ جی ڈی پی نمو کا ہدف رکھتی ہے۔
جاپانی فریق نے عالمی تجارتی خطرات کے پیش نظر منڈیوں کی تنوع کاری میں دلچسپی ظاہر کی اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی آٹو موٹیو سیکٹر سے برآمدات بڑھانے کے لیے جاپانی آٹومیکرز کو ریگولیٹری استحکام اور ہدفی سرمایہ کاری مراعات فراہم کی جائیں۔گلوبل انڈسٹری کے رجحانات پر بھی گفتگو ہوئی، خاص طور پر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بائیوفیولز کے فروغ پر جاپانی آٹو انڈسٹری (جس کی قیادت ٹویوٹا اور سوزوکی کر رہی ہیں) کی توجہ پر بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقین نے پاکستان کی آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے سزائوں پر مبنی پالیسی سے مراعات پر مبنی پالیسی کی جانب منتقلی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔پاکستان کے آٹو موٹیو اور ٹیکسٹائل شعبوں میں جاپانی سرمایہ کاری کے مواقع، بائیوفیولز کے کردار اور آٹو انڈسٹری میں ریگولیٹری معیارات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ملاقات میں سپیشل اکنامک زونز، سرمایہ کاری سہولت کاری پالیسی اور مستقبل میں پاکستان-جاپان بزنس ڈائیلاگ کے انتظامات پر بھی بات ہوئی۔دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جاپانی صنعت کے وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قریبی رابطہ قائم رکھا جائے گا تاکہ بروقت پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسے ٹھوس نتائج حاصل کیے جائیں جو پاکستان اور جاپان کے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں۔








