وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو صوبہ سے گیس کی پیداوار اور فراہمی کے حوالہ سے لکھا گیا خط حقائق کے منافی ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کی پریس کانفرنس

اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو صوبہ سے گیس کی پیداوار اور فراہمی کے حوالہ سے لکھا گیا خط حقائق کے منافی ہے، مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے ایجنڈا نمبر 158 پر کونسل کو تفصیلی بریفنگ دی گئی لیکن اس کے برعکس وزیراعلیٰ سندھ نے خط لکھا، شہری کسی …

اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو صوبہ سے گیس کی پیداوار اور فراہمی کے حوالہ سے لکھا گیا خط حقائق کے منافی ہے، مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے ایجنڈا نمبر 158 پر کونسل کو تفصیلی بریفنگ دی گئی لیکن اس کے برعکس وزیراعلیٰ سندھ نے خط لکھا، شہری کسی ایک صوبے سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ پاکستان کے شہری ہیں، ہماری کوشش ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ندیم بابر نے کہا کہ ملک میں گیس کی پیداوار اور تقسیم کے حوالہ سے سی سی آئی کے ایجنڈا نمبر 158 پر کونسل کو تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی تاہم اس کے باوجود وزیراعلیٰ سندھ نے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط لکھا۔ اس حوالہ سے انہوں نے کہا کہ جون 2020ءمیں صوبہ سندھ میں گیس کی پیداوار 2025 ملین کیوبک فٹ تھی جس میں سے 1562 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سندھ میں استعمال ہوئی جبکہ 463 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سوئی ناردرن کو الاٹ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سوئی ناردرن پنجاب اور کے پی کے میں گیس فراہم کرتی ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ سوئی ناردرن کو الاٹ کی گئی گیس میں سے بھی 200 ملین کیوبک فٹ گیس سندھ میں واقع دو پاور پلانٹس اور ایک کھاد کے پلانٹ کو فراہم کی گئی، اس طرح صوبہ سندھ سے باہر صرف 261 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو فراہم کی گئی مجموعی گیس کو اگر پیداوار سے منہا کریں تو صرف 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سندھ سے باہر استعمال ہوئی ہے۔ ندیم بابر نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ سندھ کی پیداوار 2500 تا 2600 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جبکہ سندھ کو ایک ہزار ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے اور صوبہ میں واقع پاور پلانٹس اور کھاد کے کارخانوں کو وفاق کی جانب سے فراہم کردہ گیس کو سندھ اپنے حصے میں تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی پیداوار و تقسیم کا یہ فارمولا ماضی کی حکومتوں میں طے ہوا تھا لیکن گذشتہ اڑھائی سال کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران جہاں سے بھی گیس دریافت ہوتی ہے وہ وہیں ایلوکیٹ کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ سے پیدا ہونے والی گیس کا تھوڑا سا حصہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں استعمال ہو تو کیا سندھ وفاق کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ندیم بابر نے کہا کہ دراصل سندھ چاہتا ہے کہ وہ سوئی گیس استعمال کرے اور ایل این جی استعمال نہ کرے کیونکہ وہ قدرتی گیس کے مقابلہ میں تھوڑی مہنگی ہے، یہ مناسب نہیں کیونکہ ملک میں گیس اور بجلی کی تقسیم و ترسیل کا مرکزی نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کابینہ کو بریفنگ میں بجلی کی تقسیم کے نظام کے بارے میں بتایا اور کہا کہ پنجاب کی تقسیم کار کمپنیاں منافع میں جبکہ بلوچستان اور سندھ سمیت دیگر علاقوں میں ڈسکوز کو خسارہ کا سامنا ہے لیکن پورے ملک میں بجلی کی ایک ہی قیمت رکھی گئی ہے تاکہ پاکستان بھر میں سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا یہ کہنا کہ ہم اس کو نہیں مانتے، یہ نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی آئی کے گذشتہ تین اجلاسوں میں اس حوالہ سے کام کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے تمام شہریوں کو مساوی گیس ملے کیونکہ شہری کسی ایک صوبے سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ پاکستان کے شہری ہیں۔ ندیم بابر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سال کے دوران گیس کی قومی پیداوار میں 9 تا ساڑھے 9 فیصد کمی ہوئی ہے اور نئی دریافتیں ملا کر یہ کمی 7 فیصد کے لگ بھگ رہ جاتی ہے جس کو پورا کرنے کیلئے ایل این جی منگوائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر اور جنوری کیلئے ہم نے ایل این جی کے 12 کارگوز کا انتظام کیا ہے جن کی اوسط قیمت 6.34 ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر کے آخری ہفتے اور جنوری کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس وقت گیس کی گھریلو طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے تاہم دسمبر کا مشکل ہفتہ گزر چکا ہے اور جنوری کے ابتدائی دو ہفتے باقی ہیں۔ صنعتی شعبہ کے حوالہ سے معاون خصوصی نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ صنعت کیلئے لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی تاہم ملک کے بعض حصوں میں پریشر کے مسائل ہیں جن کی بنیادی وجہ طلب میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری میں بھی صنعتی و گھریلو صارفین کیلئے گیس کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی اور 15 جنوری کے بعد حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں کے بارے میں غلط اعداد و شمار پیش کئے جا رہے ہیں جو درست نہیں ہیں کیونکہ گیس کی سپاٹ پرچیز ایک ماہ کیلئے ہوتی ہے اور اس کا سال بھر کی قیمتوں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں گیس کی طلب زیادہ اور گرمیوں میں کم ہوتی ہے اس لئے قیمتوں میں بھی فرق ہوتا ہے لہذا اگر موازنہ کرنا ہو تو پورے سال کی قیمتوں کا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2020ءکے دوران ایل این جی کے منگوائے گئے کارگوز کی اوسط قیمت 8.6 ڈالر رہی ہے اس لئے کسی ایک کارگو کی قیمت کو لے کر موازنہ نہ کیا جائے جبکہ اس کو سیاسی مسئلہ بنایا جا رہا ہے جو درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جنوری کیلئے 1200 کیوبک فٹ ایل این جی منگوائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گذشتہ ڈیڑھ سال سے سندھ حکومت سے گیس پائپ لائن کی راہداری تعمیر کرنے کیلئے اجازت طلب کرتے رہے تاکہ 17 کلومیٹر کی راہداری بنا کر ٹرمینلز کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نصب ٹرمینلز اور گیس لائن کی استعداد 1200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے اس لئے اضافی گیس نہیں منگوائی جا سکتی تھی تاہم گذشتہ اکتوبر میں سندھ حکومت کی جانب سے گیس پائپ لائن کی تعمیر کیلئے ہمیں خط موصول ہوا جس پر کام شروع کر دیا گیا اور دو روز قبل گیس پائپ لائن کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ لائن دو ماہ پہلے تیار ہو جاتی تو دسمبر، جنوری اور فروری میں اضافی گیس مل سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم فروری اور مارچ کیلئے اضافی ایل این جی کے حوالہ سے ٹینڈر جاری کر رہے ہیں تاکہ ملک میں اضافی گیس لائی جا سکے۔ ندیم بابر نے کہا کہ ہر سال دسمبر اور جنوری کے دوران گیس کی طلب دو، تین گنا بڑھ جاتی ہے جس سے مشکل پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صرف ان دو ماہ کیلئے نیا ٹرمینل لگایا جائے اور باقی پورا سال اس کو استعمال نہ کیا جائے تو اس کے معاشی نقصانات زیادہ ہیں اس لئے نجی شعبہ کو کہا گیا ہے کہ وہ ایل این جی کا ٹرمینل لگائے اور اضافی گیس لا کر صارفین کو فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ کے آخر تک نجی شعبہ کے زیر اہتمام پہلے ایل این جی کے ٹرمینل کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت نے برآمدی صنعتوں کیلئے گیس اور بجلی کی مد میں 20 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے جس میں 16 ارب روپے بجلی جبکہ 4 ارب روپے گیس کیلئے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 8، 10 سال کے دوران گیس کے صنعتی کنکشن کی فراہمی کے وقت صارف کو واضح بتایا جاتا ہے کہ سردیوں میں گیس کا کنکشن منقطع کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود حالیہ سردی کے موسم میں حکومت نے صنعتوں کی گیس کو منقطع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قومی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔