وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں کم سن بچی کے ضعیف العمر شخص سے نکاح کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تمام پہلوئوں سے تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کردی۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پرکم سن بچی ببو کے والد عبدالباقی کو چمن سے گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ …
وزیراعلی بلوچستان کی کچلاک میں کم سن بچی کے نکاح کے معاملہ میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 17 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں کم سن بچی کے ضعیف العمر شخص سے نکاح کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تمام پہلوئوں سے تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کردی۔ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پرکم سن بچی ببو کے والد عبدالباقی کو چمن سے گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی آر کے اندراج اور گرفتار ملزم کو کوئٹہ پولیس کے حوالے کرنے کے لیے کوئٹہ پولیس سے رابطہ کیا جارہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر چمن نے بتایا کہ واقعے کی کڑیاں کچلاک میں 15 سالہ بچی کے قتل کے واقعے سے ملتی ہیں، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔اس سلسلے میں معاون وزیر اعلی بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر واقعے کی تمام پہلوں سے تحقیقات کی جارہی ہیں اور مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ کم سن بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔شاہد رند نے کہا کہ بچی کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو موثر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو مرکزی ملزم سمیت دیگر ممکنہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کرنے کا کہا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کم سن بچی سے متعلق معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے تمام حقائق کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔معاون وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر موثر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔ کم سن بچوں کے حقوق اور تحفظ کے معاملے پر حکومت بلوچستان کی واضح اور دوٹوک پالیسی ہے۔شاہد رند نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انسداد کم عمری کی شادی کا قانون موجود ہے اور حکومت اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کررہی ہے۔







