کراچی۔ 21 جنوری (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے 84ویں گورننگ باڈی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ادارے کے مستقبل کے تحفظ اور جان بچانے والی خدمات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے کئی اہم اور تاریخی فیصلے کیے، ان فیصلوں میں قانونی معاملات کی بحالی، بجٹ میں اضافہ اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر …
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت این آئی سی وی ڈی کی 84ویں گورننگ باڈی کے اجلاس کا انعقاد

مزید خبریں
کراچی۔ 21 جنوری (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے 84ویں گورننگ باڈی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ادارے کے مستقبل کے تحفظ اور جان بچانے والی خدمات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے کئی اہم اور تاریخی فیصلے کیے، ان فیصلوں میں قانونی معاملات کی بحالی، بجٹ میں اضافہ اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔بدھ کو وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، اراکین اسمبلی رخسانہ پروین اور سعدیہ جاوید، پرنسپل سیکرٹری آغا واصف، سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکرٹری صحت ریحان بلوچ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر طاہر صغیر، مشتاق چھاپڑا اور دیگر نے شرکت کی۔
وزیراعلی سندھ نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ تمام قانونی ابہامات کو دور کیا جائے تاکہ یہ عالمی معیار کا ادارہ بغیر کسی رکاوٹ کے عوام کی خدمت جاری رکھ سکے۔ ادارے کے انتظامی امور کو مزید پیشہ ورانہ بنانے کے لیے گورننگ باڈی نے اصولی طور پر ایک فل ٹائم چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) اور چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) کی بھرتی کی منظوری دی، جو اوپن مارکیٹ میں مسابقتی عمل کے ذریعے کی جائے گی۔ وزیراعلی سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ بھرتی کے عمل سے قبل قواعد و ضوابط طے کیے جائیں۔ گورننگ باڈی کو بتایا گیا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے فوری طور پر 3.5 ارب روپے کی اضافی گرانٹ درکار ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلی سندھ کی جانب سے 10 ارب روپے کی منظوری دی جاچکی ہے تاہم انتظامی اور سروس لاگت میں اضافے کے باعث ادارے کو مجموعی طور پر تقریبا 4.6 ارب روپے کے مالی خسارے کا سامنا ہے۔
وزیراعلی سندھ نے سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو این آئی سی وی ڈی کے بزنس ماڈل کا جائزہ لے کر اصلاحات تجویز کرے گی۔ وزیراعلی سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد درکار فنڈز کی منظوری دے کر جاری کر دیئے جائیں گے ۔اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر نے 2025 کے دوران این آئی سی وی ڈی کی نمایاں کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ این آئی سی وی ڈی کراچی نے 2024 میں 9,925 پرائمری اینجیو پلاسٹیز انجام دیں، جس کے ساتھ یہ ادارہ دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ ادارے نے 200 سے زائد ٹرانس کیتھیٹر ایورٹک والو امپلانٹیشن (TAVI) کے آپریشنز مفت انجام دیے، جن کی نجی ہسپتالوں میں لاگت تقریبا 40 لاکھ روپے فی آپریشن ہے۔
این آئی سی وی ڈی نے پہلی بار بلوچستان میں بچوں کے دل کے علاج کی خدمات فراہم کیں، جہاں 100 سے زائد سرجریز اور 300 سے زائد انٹروینشنز انجام دی گئیں۔ اسٹروک انٹروینشن پروگرام کے تحت 450 سے زائد طریقہ علاج مکمل کیے گئے، جس سے متعدد مریض مستقل اعصابی معذوری سے بچ گئے۔ اجلاس میں وزیراعلی سندھ نے کئی بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جن میں 300 بستروں پر مشتمل نیا پیڈیاٹرک یونٹ اور لانڈھی میں زیر تعمیر ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز شامل ہیں، جو 1,200 بستروں پر مشتمل ہوگا اور دنیا کا سب سے بڑا دل کا ہسپتال ہوگا۔ وزیراعلی سندھ نے ہدایت دی کہ این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کے انضمام اور انتظامی ہم آہنگی کے لیے جامع بزنس پلان تیار کرنے والی فرم کی تقرری کو جلد حتمی شکل دی جائے۔








