سیالکوٹ ۔ 5 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹڑ فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیرا عظم عمران خان نے آٹے اور چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنیوالوں کی ذمہ داروں کی رپورٹ عام کرکے قانون کے یکساں اطلاق کا وعدہ پورا کیا ہے، وزیراعظم نے اپنی جماعت سے خود احتسابی کا عمل شروع کردیا ،فرانزک آڈٹ کے ذریعے تمام تر حقائق عوام …
وزیرا عظم عمران خان نے آٹے اور چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنیوالوں کی ذمہ داروں کی رپورٹ عام کرکے قانون کے یکساں اطلاق کا وعدہ پورا کیا ہے، ڈاکٹڑ فردوس عاشق اعوان

مزید خبریں
سیالکوٹ ۔ 5 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹڑ فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیرا عظم عمران خان نے آٹے اور چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنیوالوں کی ذمہ داروں کی رپورٹ عام کرکے قانون کے یکساں اطلاق کا وعدہ پورا کیا ہے، وزیراعظم نے اپنی جماعت سے خود احتسابی کا عمل شروع کردیا ،فرانزک آڈٹ کے ذریعے تمام تر حقائق عوام تک پہنچائے جائیں گے اور ذمہ دار ٹھہرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی ہوگی،شریف گروپ کی حقیقت بھی اس رپورٹ نے افشاں کردی ہے،رپورٹ پر تنقید سے قبل شہباز شریف کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے،وزیراعظم نے محنت کشوں کیلئے اربوں روپے کا مثالی پیکیج دیا،عالمی معاشی بحران کے باعث پاکستانی صنعتکاربھی مشکلات کا شکار ہیں،منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنیوالوں پر کڑی نظر رکھی جائیگی۔وہ اتوار کو سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ سے فوڈسپلائی اور صنعتوں کو در پیش مسائل پر تفصیل سے بات ہوئی ہے، اجلاس میں مزدوروں کے مسائل پربھی تفصیل سے گفتگو ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے 200 ارب روپے کا مثالی پیکج دے کر مزدوروں کی مشکلات کم کرنے کی کوشش کی ۔انہوں نے کہا کوئی بھی حکومت تنہا اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے ہی اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا اس وقت جمود کی کیفیت ہے ۔سیالکوٹ ایک ایکسپورٹ سٹی ہے اور ایکسپورٹ ٹارگٹ پورا کرنا بہت ضروری ہے۔اس وقت پوری دنیا کی معیشت تباہ حالی کا شکا ر ہے۔ایسی صورتحال میں ایکسپورٹرز کے آرڈرزکوپورا کرنے کے لیے معاونت ضروری ہے۔اسی لیے حکومت ایکسپورٹ سے جڑی صنعتوں کو مرحلہ وار کھولنے جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آئے ہوئے افراد اس وقت قرنطینہ میں ہیں ۔اس وبا ء کو روکنے کے لیے حکومت ان خاندانوںکے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے تاجروں نے ہر مشکل گھڑی میں حکومت کا ساتھ دیا ہے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی وزیر اعظم کے کرونا ریلیف فنڈ میں دل کھول کر عطیات جمع کروائے گی۔معاون خصوصی نے مزید کہا وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ”دو نہیں ایک پاکستان،، کے نعرے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے چینی اور آٹے کے مصنوعی بحران کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لا کر عوام سے کیے ہوئے ایک اور وعدے کی تکمیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود احتسابی کا عمل اپنی جماعت سے شروع کیا ہے۔ملکی تاریخ میں پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے کہااس رپورٹ سے واضح ہو گیا کہ ہمارے دور میں چینی پر 3ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ۔ اس رپورٹ سے 30سال سے جاری کھیل کا پردہ چاک ہو گیا۔اس رپورٹ نے شریف گروپ کی بدمعاشی بے نقاب کر دی ہے۔منافع خورگزشتہ تین دہائیوں سے حکومتی پالیسیزکا حصہ تھے۔نواز شریف دور میں چینی کی درآمد کی مد میں 22ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ۔جس سے سلمان شہباز نے ایک ارب چالیس کروڑ روپے کا فائدہ حاصل کیا۔آج شہباز شریف بغلیں بجا رہے ہیں۔ان کا نام شہباز شریف کی زبان پر کیوں نہیں آرہا۔انہوں نے کہا آج سے پہلے بننے والے کمیشن کی رپورٹس دبا دی جاتی تھیں۔لیکن اس رپورٹ کا پبلک ہوناوزیراعظم کی عوام دوستی کی درخشاں مثال ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے مندرجات کی مزید تحقیق کے لیے اس رپورٹ کے فرانزک آڈٹ کے لیے 25اپریل تک کی ڈیڈ لاین دی گئی ہے۔فرانزک آڈٹ کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔اور عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائیگا،آٹے اور چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کو قانون کے دائرہ میں لاکر سزا دی جائیگی۔مناقع خوروں کے خلاف عمران خان زیروٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا پچھلے 72 سال سے 5%اشرافیہ نے% 95عوام کے حقوق کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان وہی راہنما ہیں جنہوں نے الیکشن سے قبل اپنے22پارٹی راہنمائوں کو سینیٹ الیکشن میں ساز باز کرنے پر پارٹی سے نکا ل دیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ میری درخواست پرسیالکوٹ کو اضافی 10000آٹے کے تھیلوں کاکوٹہ دینے پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدارکی مشکور ہوں۔








