اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیرخزانہ اسد عمر کی صدارت میں زری پالییسیوںکو مستحکم بنانے کے رابطہ بورڈ (فسکل پالیسی کوارڈی نیشن بورڈ) کا اجلاس منگل کو منعقد ہوا۔اجلاس میں مالیاتی اورزری پالیسیوں اوربیرونی شعبے کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پرمالیاتی استحکام کیلئے جاری ایڈجسٹمنٹ پلان کو بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا۔مالیاتی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے بورڈ نے قرار دیا کہ مالیاتی کیفیت کومزید …
وزیرخزانہ کی صدارت میں فسکل پالیسی کوارڈی نیشن بورڈکے اجلاس میں مالیاتی اورزری پالیسیوں اوربیرونی شعبے کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیرخزانہ اسد عمر کی صدارت میں زری پالییسیوںکو مستحکم بنانے کے رابطہ بورڈ (فسکل پالیسی کوارڈی نیشن بورڈ) کا اجلاس منگل کو منعقد ہوا۔اجلاس میں مالیاتی اورزری پالیسیوں اوربیرونی شعبے کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پرمالیاتی استحکام کیلئے جاری ایڈجسٹمنٹ پلان کو بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا۔مالیاتی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے بورڈ نے قرار دیا کہ مالیاتی کیفیت کومزید سخت کرنے کی مزید گنجائش موجود ہے۔ اجلاس میں حکومت کی جانب سے مالیاتی اورنیم مالیاتی خسارے کے ضمن میں حکومت کی جانب سے اصلاحی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیاکہ ایڈجسٹمنٹ پلان اورمیکرواکنامک استحکام میں مالیاتی استحکام کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔بورڈ نے اس بات پرزوردیاکہ ٹیکس اورنان ٹیکس کی مد میں محصولات کے اہداف کا حصول اوراخراجات پرقابوپانا بدستورضروری ہے۔اجلاس میں مالی سال 2019 کیلئے اہم مالیاتی اعشاریوں اورمتغیرات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا کہ کہ بیرونی تجارت سے متعلق ڈیٹا حوصلہ افزاءہے اورمالیاتی وزری پالیسیوں کے استحکام اورعدم توازن کو درست کرنے کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کے اثرات رونماءہورہے ہیں، اسی طرح ترسیلات زر میں برھوتری بھی حوصلہ افزاءہے۔اجلاس میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی آخری نیلامی میں بڑی مقدارمیں شرکت اوردلچسپی کو سراہا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حقیقی انٹرسٹ ریٹس مثبت ہیں اوراس سے جملہ طلب اورپیداواری گیپ کوکم کرنے میں مدد ملیگی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال میں ایم ٹو کی ترقی کی شرح تیز رفتارہے جبکہ این ایف اے میں سکڑاو دیکھنے میں آیا ہے۔نجی شعبوں کے قرضوں کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں بتایا گیاکہ بڑھوتی کی شرح میں اضافہ کاعمل جاری ہے ، ان پٹ قیمتوں ، سرمایہ کاری میں اضافہ اوربنکوں میں بڑی مقدارمیں لیکویڈیٹی سے اس کی عکاسی ہوتی ہے۔اسی طرح برآمدی شعبے کیلئے زرتلافی وبغیر زرتلافی کے حامل قرضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اجلاس میں وزیرمنصوبہ بندی مخدوم خسروبختیار، آئی بی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹرفرخ اقبال، وزارت خزانہ اورسٹیٹ بنک آف پاکستان کے حکام نے شرکت کی۔








