اسلام آباد ۔ 26 نومبر (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس منگل کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ مواصلات مراد سعید، وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر برائے فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ توانائی عمر ایوب، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی …
وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 نومبر (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس منگل کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ مواصلات مراد سعید، وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر برائے فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ توانائی عمر ایوب، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سیّد زبیر گیلانی، سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی و سینئر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے زور دیا کہ ایکسپورٹرز کے بقایاجات کی ادائیگی کے حوالہ سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس ضمن میں کاروباری برادری کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ معیشت کی بہتری کےلئے ملکی برآمدات میں اضافہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے، اس ضمن میں ایکسپورٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا اور ان کو درپیش مسائل دور کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ بعض کاروباری حلقوں کی جانب سے بقایا جات کے نئے نظام کے حوالہ سے مشکلات کی شکایات سامنے آئی ہیں، اس کا فوری طور پر ازالہ کرنے کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ کو نئے نظام سے متعارف کرانے کےلئے بھی ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے۔ اجلاس میں کاروباری برادری کے ریفنڈز، تعمیرات کے شعبہ کے فروغ خصوصاً کم آمدنی والے افراد کےلئے ملک بھر میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں پیشرفت اور غیر سرکاری فلاحی تنظیم اخوت کی معاونت سے ”فوڈ بنک“ پروگرام کے اجراءکے حوالہ سے معاملات زیر غور آئے۔ اجلاس میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ایکسپورٹرز کے ریفنڈز (بقایا جات) کی ادائیگی کےلئے کئے جانے والے اقدمات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین نیا پاکستان ہاو¿سنگ اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے اجلاس کو تعمیرات کے شعبہ کے فروغ خصوصاً کم آمدنی والے افراد کےلئے ہاو¿سنگ منصوبے میں پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں خاطر خواہ پیشرفت کی جا چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد 15 ہزار یونٹس پر مشتمل پہلے منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا اور دسمبر کے آخر تک ملک کے کم از کم تین صوبوں میں گھروں کی تعمیر کے منصوبوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔ سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے اجلاس کو غیر سرکاری فلاحی تنظیم اخوت کی معاونت سے شروع کئے جانے والے ”فوڈ بنک“ پروگرام کے اجراءکے حوالہ سے آگاہ کیا۔ اس پروگرام کے تحت اخوت کی جانب سے مختلف گھروں، ہوٹلوں اور میرج ہالز سے اضافی کھانا اکٹھا کرکے مستحق لوگوں کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا۔ اس منصوبے کو ابتدائی طور پر لاہور سے شروع کیا جائے گا جس کےلئے ابتدائی طور پر ایک سو ریسٹورنٹس سے پارٹنرشپ کی گئی ہے۔ اکٹھی کی جانے والی خوارک اور کھانے کو کچی آبادیوں، مستحق افراد کے اندراج شدہ گھروں جن میں بیوائیں اور عمر رسیدہ نادار افراد مقیم ہوں اور دیگر مقامات مثلاً ریلوے، بس اڈوں، ہسپتالوں و دیگر جگہوں پر مفت فراہم کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے تین ماہ میں 20 ہزار لوگوں تک یہ کھانا پہنچایا جائے گا، اس تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ وزیرِاعظم نے ”فوڈ بنک“ پروگرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام حکومت کے وژن اور فلاحی سرگرمیوں سے مطابقت رکھتا ہے، اس لئے حکومت اس پروگرام کو شروع کرنے کےلئے مطلوبہ وسائل و ماہانہ اخراجات کی فراہمی میں تعاون کرے گی۔








