وزیرِ اعظم عمران خان کی ایشیائی ترقیاتی بینک کے شعبہ دیہی ترقی و تحفظ خوراک کے سربراہ ڈاکٹر اکمل صدیق سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کوسہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جارہی ہے، زرعی شعبے میں چین کے تجربے سے بھی استفادہ کر نے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایشیائی ترقیاتی بینک کے شعبہ دیہی …

اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کوسہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جارہی ہے، زرعی شعبے میں چین کے تجربے سے بھی استفادہ کر نے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایشیائی ترقیاتی بینک کے شعبہ دیہی ترقی و تحفظ خوراک کے سربراہ ڈاکٹر اکمل صدیق سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کو یہاں وزیراعظم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمراور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین بھی موجود تھے۔ انہوں نے ملاقا ت میں ترقی پذیر ممالک، علاقائی سطح پر اور خصوصاً پاکستان میں زرعی شعبے کو درپیش مسائل، ٹیکنالوجی، ماحولیات، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور مارکیٹنگ کی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے زرعی شعبے پر منفی اثرات، ملک میں زرعی شعبے کے فروغ کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے فراہم کی جانے والی تکنیکی و دیگرمعاونت اورمستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ڈاکٹر اکمل صدیق نے وزیرِ اعظم کو بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر زرعی شعبے کی صورتحال کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے کئے جانے والے سروے اوراس کی سفارشات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ دورِ حاضر اور خصوصاً جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایگریکلچر کا شعبہ مسلسل حکومتی سرپرستی کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے فروغ کے لئے تحقیق و ترقی، بیج کی جدید اقسام کی تیاری و آسان فراہمی، کیمیکلز (فرٹیلائزرز، کیڑے مار ادویات وغیرہ) مالی وسائل کی دستیابی، کولڈ چین اور مارکیٹنگ جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 2018ء میں بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان اور ویت نام میں زرعی شعبے میں کی جانے والی سٹڈی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زرعی اجناس کے حوالے سے مطلوبہ انفراسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ہے اور جلد خراب ہونے والی اجناس (مثلاً پھل وغیرہ) کا دس فیصد سے بھی کم حصہ باقاعدہ طور پر کولڈ چین کے ذریعے مارکیٹ میں پہنچایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ جہاں حکومتی عدم توجہ کا شکار رہا ہے وہاں اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی شرح بھی کم ہے اس کے ساتھ ساتھ پیداوار کی شرح کم ہونے کی وجہ سے کاشتکاروں کو ان کی محنت کا مکمل پھل نہیں مل پاتا۔ زرعی شعبے کے فروغ کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے تکنیکی و دیگر معاونت کے حوالے سے ڈاکٹر اکمل نے وزیرِ اعظم عمران خان کو بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے زرعی شعبے میں انفارمیشن اینڈ کمونیکیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے بنک کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔اس منصوبے پر 2020ء میں عمل شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں جدید ہول سیل مارکیٹ کے قیام میں معاونت کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے 150ملین ڈالر کے قرضے کی فراہمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی پروری کے فروغ کے لئے اسٹڈی کرائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں زرعی شعبے کے فروغ خصوصاً کچھی کینال کے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارپوریٹ ایگریکلچر متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی خصوصا شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا اور کسانوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے آبادی کا بڑا حصہ بالواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک میں زرعی اجناس کی پیداوار کے بارے میں جامع منصوبہ بندی کے لئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپاس، چاول، گندم و دیگر بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی اور طریقوں کو بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ حکومت فشریز، فارمنگ وغیرہ جیسے شعبوں پر بھی توجہ دے رہی ہے جو ماضی میں یکسر نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں اور جن میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زرعی شعبے میں چین کے تجربے سے بھی استفادہ کر نے کے لئے پرعزم ہے۔ وزیرِ اعظم نے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی جانب سے زرعی شعبے میں معاونت فراہم کرنے پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تکنیکی معاونت کی فراہمی اور خصوصاً زراعت کے شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اے ڈی بی کی معاونت کا خیر مقدم کرتا ہے۔

مزید خبریں