وزیرِ خزانہ سینیٹر اورنگزیب کا پائیدار اور جامع معاشی ترقی کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت اور تعاون پر مبنی ماحول کے فروغ کا عزم

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت اور تعاون پر مبنی ماحول کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سرمایہ کاری پر مبنی ترقی اورکاروبار میں وسعت کیلئے مالی وسائل تک بہتر رسائی، قرضوں کی مؤثر فراہمی اور حقیقی معیشت کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے

اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت اور تعاون پر مبنی ماحول کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ سرمایہ کاری پر مبنی ترقی اورکاروبار میں وسعت کیلئے مالی وسائل تک بہتر رسائی، قرضوں کی مؤثر فراہمی اور حقیقی معیشت کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے، مستحکم اور جوابدہ مالیاتی ماحول مجموعی معاشی استحکام کے لئے ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ اور زاہد حسین کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ ملاقات میں کاروباری ماحول، مالیاتی شعبے کی صورتحال اور جاری اصلاحاتی اقدامات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے کاروباری برادری کی مسلسل شمولیت کو سراہتے ہوئے پالیسی سازی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعمیری کردار اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ رکھنے اور طویل المدت معاشی استحکام کے لیے مسلسل مشاورت ناگزیر ہے۔ وزیرِ خزانہ نے قابلِ پیش گوئی اور شفاف ریگولیٹری ماحول کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور کاروباری برادری کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے محصولات کے نظام میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن، تعمیل کے نظام کو بہتر بنانے اور شفافیت بڑھانے کے لئے جاری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزارتِ خزانہ کے تحت خودمختار ٹیکس پالیسی آفس کے قیام پر پیشرفت کا بھی ذکر کیا جس کے ذریعے ٹیکس پالیسی سازی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے الگ کیا جا رہا ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ اس اقدام سے شفافیت، پالیسی میں وضاحت اور تسلسل کو یقینی بناتے ہوئے کاروباری ماحول کو مزید سازگاربنانے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں ایک مؤثر مالیاتی نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا جو کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ مالی وسائل تک بہتر رسائی، قرضوں کی مؤثر فراہمی اور حقیقی معیشت کے ساتھ ہم آہنگی سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کے لئے ضروری ہیں تاکہ کاروبار کو وسعت دی جا سکے اور وہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک مستحکم اور جوابدہ مالیاتی ماحول مجموعی معاشی استحکام کے لئے ناگزیر ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہاکہ پاکستان نے چار سال کے وقفہ کے بعد نجی طور پر جاری کئے گئے یورو بانڈ کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ رسائی حاصل کی ہے جسے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، یہ پیشرفت بہتر ہوتے معاشی اشاریوں اور حکومت کے اصلاحات کے ایجنڈے پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ حکومت ایک مستحکم پالیسی ماحول، شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے اور اہم شعبوں میں ہدفی اصلاحات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے،حکومت ایسے ماحول کی تشکیل پر توجہ دے رہی ہے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، کاروباری ترقی کو سہارا دے اور معیشت کو مزید مضبوط بنائے۔ اصلاحات کے جاری عمل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھتے ہوئے ترقی کے فروغ کے لئے متوازن اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط اور ترقیاتی تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پالیسی اقدامات کے مؤثر نفاذ کے لیے مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ وزیرِ خزانہ نے پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت اور تعاون پر مبنی ماحول کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ۔