وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے یو اے ای کے وزیر کی ملاقات، عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر اقتصادی روابط کا جائزہ اور سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر اتفاق

ڈیووس۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے منگل کو ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے مالی امور محمد الحسینی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین جاری اقتصادی روابط کا جائزہ لیا گیا اور دوطرفہ، قریبی اور ہمہ جہت تعلقات کو مزید مضبوط بنانے …

ڈیووس۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے منگل کو ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے مالی امور محمد الحسینی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین جاری اقتصادی روابط کا جائزہ لیا گیا اور دوطرفہ، قریبی اور ہمہ جہت تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اماراتی وزیر نے پاکستان اور آ ئی ایم ایف کے درمیان جاری پروگرام پر پیشرفت سے آگاہی حاصل کی۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنے ہم منصب کو آئی ایم ایف پروگرام کے تسلسل، ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت جاری جائزے اور کلائمٹ ریزیلینس پروگرام کے پہلے جائزے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات خصوصاً متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد سے مزید مستحکم ہو رہے ہیں ۔

محمد الحسینی نے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مضبوط تعلقات کو سراہتے ہوئے عوامی سطح پر روابط کی اہمیت پر زور دیا جو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ شراکت داری کی بنیاد ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے متحدہ عرب امارات کی مالی تعاون پر مبنی حمایت، بشمول دوطرفہ ڈیپازٹس اور لین دین پر شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ روایتی مالی معاونت کو طویل المدتی سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کرنا دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند اور پائیدار ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔

اماراتی وزیر نے اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے اقتصادی استحکام اور طویل المدتی ترقی کے لئے سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے ابھرتی ہوئی مالی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے تجربے کا اعتراف کیا اور پاکستان میں ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لئے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا جن میں ٹوکنائزیشن پر توجہ دینے والی ایک مخصوص اتھارٹی کا قیام بھی شامل ہے۔

انہوں نے اماراتی مالیاتی اداروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون، بزنس ٹو بزنس روابط اور آف شورنگ سرگرمیوں میں حوصلہ افزا رجحانات کا ذکر کیا۔ اماراتی وزیر نے ان پیش رفتوں کا خیر مقدم کیا اور اعتماد کا اظہار کیا کہ ان شعبوں میں تعاون مزید وسعت اختیار کرے گا۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی اقتصادی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جاری جیو پولیٹیکل چیلنجز کے باوجود اماراتی وزیر نے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کے لئے مثبت پیشرفت کا حامل رہا ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ سال اہم مالی لین دین کامیابی سے مکمل کئے جو مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کی عکاسی کرتے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان کی اقتصادی کامیابیوں پر روشنی ڈالی جن میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور میکرو اکنامک استحکام میں بہتری شامل ہے۔

محمد الحسینی نے اصلاحاتی پروگرام کے آغاز کے وقت کے مقابلے میں پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں واضح بہتری کا ذکر کیا اور پالیسیوں کے تسلسل کو پائیدار ترقی کے لیے سب سے اہم عنصر قرار دیا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اصلاحات کے لئے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا، جو وزیرِ اعظم کی واضح رہنمائی اور حمایت سے تقویت پا رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے جاری ساختی اصلاحات، بالخصوص نجکاری کے اقدامات پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا۔ اماراتی وزیر نے کارکردگی اور مسابقت میں بہتری کے لئے نجکاری کی اہمیت پر زور دیا اور نجی شعبے کی شمولیت، متحرک قیادت اور سازگار آبادیاتی عوامل کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی اقتصادی تبدیلی کے تجربات سے آگاہ کیا۔ دونوں جانب سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور باہمی مفاد پر مبنی اقدامات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔