وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 30 اپریل تک 25304 درخواستیں موصول، 8990 منظور کی گئیں ، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کوبریفنگ
وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 30 اپریل تک 25304 درخواستیں موصول، 8990 منظور کی گئیں ، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کوبریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کوبتایاگیاہے کہ وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 30 اپریل 2026ء تک 25304 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن میں سے 8990 درخواستیں منظور کر لی گئی ہیں جن کی مالیت 37.154 ارب روپے ہے، 1845 مستحقین کو 5.071 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں مارگیج فنانسنگ کا حصہ مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.3 فیصد اور نجی شعبے کے کل قرضوں کا صرف 0.56 فیصد ہے، حکومت نے آئندہ چار برسوں میں 5لاکھ رہائشی یونٹس کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے لیے تقریباً 3.2 کھرب روپے درکار ہوں گے۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس جمعرات کویہاں چیئرمین سیدنویدقمرکی زیرصدارت منعقدہوا۔ چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے اجلاس میں بتایا کہ کم لاگت ہائوسنگ فنانس حقیقی معنوں میں مستحق کم آمدنی والے خاندانوں تک شفاف، جوابدہ اور جامع طریقہ کار کے ذریعے پہنچنا چاہیے، طویل المدتی ہائوسنگ فنانس کو فروغ دینے،مارگیج فنانس شعبے کو مضبوط بنانے اور مالیاتی اداروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے فورکلوژر اور ریکوری قوانین کی فوری ضرورت ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس اور سیکرٹری قانون و انصاف نے ارکان کو وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام، اس کے نفاذ کیلئے فریم ورک اور ہائوسنگ فنانس و فورکلوژر قوانین سے متعلق مجوزہ اصلاحات پر بریفنگ دی۔ سیکریٹری وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس نے اپنی پریزنٹیشن میں بتایا کہ وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام سبسڈی پر مبنی ہائوسنگ فنانس اسکیم ہے جس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو گھر کی ملکیت فراہم کرنا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور تعمیراتی شعبے کو دوبارہ فعال بنانا ہے، اگست 2025ء میں منظور اور مارچ 2026ء میں نظرثانی شدہ اس سکیم کے تحت پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کو 10 ملین روپے تک کی فنانسنگ 5 فیصد مقررہ شرح منافع پر فراہم کی جاتی ہے جس کی واپسی کی مدت 20 سال ہے۔اجلاس کوبتایاگیا کہ 30 اپریل 2026ء تک 25304 درخواستیں موصول ہو چکی تھیں جن میں سے 8990 درخواستیں منظور کی گئیں جن کی مالیت 37.154 ارب روپے بنتی ہے جبکہ 1845 مستحقین کو 5.071 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کا ہائوسنگ فنانس شعبہ اب بھی انتہائی کمزور ہے جہاں مارگیج فنانسنگ کا حصہ مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0.3 فیصد اور نجی شعبے کے کل قرضوں کا صرف 0.56 فیصد ہے، حکومت نے آئندہ چار برسوں میں 5لاکھ رہائشی یونٹس کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے لیے تقریباً 3.2 کھرب روپے درکار ہوں گے۔ وزارت نے زور دیا کہ فورکلوژر اور ریکوری قوانین میں اصلاحات بینکوں کے خطرات کم کرنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے اور مارگیج فنانس کے پائیدار فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان کا ہائوسنگ فنانس کا شعبہ اب بھی بہت حد تک غیر ترقی یافتہ ہے اور اس حوالے سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، بہتر فورکلوژر و ریکوری قوانین اور زیادہ سازگار ریگولیٹری ماحول کی ضرورت ہے تاکہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مارگیج قرضوں میں وسعت دینے کی ترغیب دی جا سکے۔
چیئرمین اور کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کم آمدنی اور پسماندہ طبقات، خصوصاً دیہی اور ترقی سے محروم علاقوں میں ہائوسنگ فنانس کی سہولیات کی رسائی محدود ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ موجودہ کمزور مارگیج فنانس نظام کے باوجود کیا بینک اور مالیاتی ادارے آئندہ چار برسوں میں 5لاکھ رہائشی یونٹس کی فنانسنگ جیسے بڑے ہدف کے حصول کی ادارہ جاتی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومت اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کم آمدنی اور غیر رسمی شعبے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کے لیے آسان فنانسنگ طریقہ کار، آسان اہلیت کا معیار اور زیادہ سبسڈی متعارف کرائیں تاکہ سکیم تک رسائی اور اس کی استعدادکو بہتر بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ فورکلوژر اور ریکوری قوانین میں جامع اصلاحات کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کیا جائے تاکہ مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہو، نادہندہ قرضوں میں کمی آئے اور پاکستان میں مارگیج فنانسنگ کے پائیدار فروغ کو ممکن بنایا جا سکے۔
سیکریٹری وزارت قانون و انصاف نے کمیٹی کوفنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانس) ترمیمی ایکٹ 2026 میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دی اور ڈرافٹ مسودہ میں شامل ہائوسنگ فنانس ریکوری کے نظرثانی شدہ طریقہ کار کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ شراکت داروں کی آراء کی روشنی میں متعدد ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں نئی شق 15A کا اضافہ شامل ہے جو خاص طور پر ہائوسنگ فنانس سے متعلق ہے، بجائے اس کے کہ یہ دفعات تمام رہن دستاویزات پر عمومی طور پر لاگو کی جائیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ مسودے میں مارگیج ڈیفالٹ کی صورت میں نوٹس کی مدت بڑھا دی گئی ہے اور ابتدائی تینوں نوٹسز کے لیے 30، 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، یوں مزید کارروائی سے پہلے مجموعی طور پر 90 دن کا وقت دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک نئی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت مالیاتی ادارے رہن شدہ جائیداد کی فروخت سے پہلے کسی بھی مرحلے پر قرض کی ری شیڈولنگ، ری سٹرکچرنگ یا تصفیہ کر سکیں گے تاہم کمیٹی نے ان دفعات پر تشویش ظاہر کی جو ممکنہ طور پر بینکوں کو فورکلوژر کے عمل میں غیر معمولی اختیارات دے سکتی ہیں۔
ارکان نے زور دیا کہ اگرچہ مارگیج فنانسنگ کے فروغ اور قرض دہندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے موثر قانونی فریم ورک ضروری ہے، لیکن قرض لینے والوں کو من مانی یا غیر منصفانہ کارروائیوں سے بچانے کے لیے مناسب قانونی تحفظ اور شفاف طریقہ کار بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بل پر غور آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا اور سیکریٹری وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کو بل کا نظرثانی شدہ مسودہ تمام ارکان کو مزید جائزے اور تجاویز کے لیے فراہم کرنے کی ہدایت کی تاکہ آئندہ اجلاس میں اسے حتمی شکل دی جا سکے۔وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کمیٹی کو پاکستان کی موجودہ معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی اور ہائوسنگ فنانس شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان محتاط مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی کھاتوں کی بہتر کارکردگی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور معاشی استحکام کے اقدامات کے ذریعے اپنے اہم مالیاتی اہداف کے حصول کی راہ پر گامزن ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے ترسیلاتِ زر میں اضافے، یورو بانڈز کے اجراء کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں تک بہتر رسائی اور پانڈا بانڈز کی منظوری کے عمل میں پیش رفت جیسے مثبت معاشی اشاریوں کو سراہا۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات میں اضافہ، نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش اور رسد سے متعلق بنیادی رکاوٹوں کے خاتمے کے ذریعے معاشی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ طویل المدتی معاشی استحکام اور مضبوطی یقینی بنائی جا سکے۔ وفاقی وزیر نے چیئرمین اور ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات بھی دیئے۔
اجلاس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی جس میں سرمایہ اور منافع کی وطن واپسی، سرمایہ کاروں کو درپیش اہم مسائل اور سہولت کاری و اعتماد بڑھانے کے اقدامات شامل تھے۔ کمیٹی نے 30 اپریل 2026ء کو منعقدہ اپنے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق بھی کر دی۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان، سید سمیع الحسن گیلانی، زیب جعفر، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، شرمیلا فاروقی، محمد جاوید حنیف خان اور شاہدہ بیگم نے شرکت کی۔اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ سینیٹرمحمداورنگزیب، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہرکیانی ، سیکریٹریز خزانہ، سیکرٹری ہائوسنگ اینڈ ورکس اورسیکرٹی قانون و انصاف کے علاوہ وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔








