وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو معافی نہ دینے کا اسرائیلی صدر کا اقدام شرمناک ہے، امریکی صدر

واشنگٹن۔13فروری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو معافی نہ دینے کا ان کا اقدام شرمناک ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو غیر معمولی جنگی وزیراعظم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی صدر انہیں معافی دینے سے …

واشنگٹن۔13فروری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو معافی نہ دینے کا ان کا اقدام شرمناک ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو غیر معمولی جنگی وزیراعظم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی صدر انہیں معافی دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس اقدام پر ان کو خود سے شرمندہ ہونا چاہیے، وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو معافی نہ دینا قابلِ مذمت اقدام ہے، انہیں وزیر اعظم کو معافی دینی چاہیے ۔

امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیلی عوام کو صدر ہرزوگ پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر مہنگے تحائف بطور رشوت لینے اور میڈیا اداروں کے مالکان سے اپنی حکومت کی سازگار کوریج کے عوض مبینہ سودے طے کرنے کے الزامات ہیں۔ ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا تاہم غزہ میں اسرائیل کی جنگ سمیت علاقائی حالات کی وجہ سے قانونی کارروائی متاثر ہوتی رہی ہے۔ اسرائیلی صدر کے دفتر نے ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے جو قانون کی حکمرانی کے تحت چلتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی معافی کی درخواست وزارت انصاف میں قانونی رائے کے لیے زیرِ جائزہ ہے اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دفتر نے کہا کہ صدر ہرزوگ اس عمل کی تکمیل کے بعد قانون، ریاست اسرائیل کے بہترین مفادات اور اپنے ضمیر کے مطابق درخواست پر غور کریں گے اور یہ فیصلہ کسی بھی قسم کے داخلی یا خارجی دباؤ کے بغیر کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ سال 30 نومبر کو باضابطہ طور پر معافی کی درخواست جمع کرائی تھی۔

اسرائیلی قانون کے تحت صدر کو مجرمان کو معافی دینے کا اختیار حاصل ہے تاہم مقدمہ کے دوران معافی دینے کی کوئی نظیر موجود نہیں۔نیتن یاہو کے خلاف تین مقدمات میں رشوت خوری، دھوکہ دہی اور اعتماد میں خیانت کے الزامات ہیں۔ وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔

نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔بنجمن نیتن یاہو اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ہیں جن پر عہدے میں رہتے ہوئے فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔