اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی قیادت کے حالیہ بیانات پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی قیادت کی طرف سے دیئے گئے حالیہ بیانات کو مکمل طور پر ناقابل فہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نہ تو پاکستان کو افغانستان میں اجتماعی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا اور نہ ہی اتحادیوں پر الزام تراشی سے افغانستان اور …
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی قیادت کے حالیہ بیانات پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی قیادت کی طرف سے دیئے گئے حالیہ بیانات کو مکمل طور پر ناقابل فہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نہ تو پاکستان کو افغانستان میں اجتماعی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا اور نہ ہی اتحادیوں پر الزام تراشی سے افغانستان اور خطے میں پائیدار امن کے مشترکہ مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کا 17واں اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت منگل کو یہاںمنعقد ہوا، جس میں خطے اور خطے سے باہر ابھرتی ہوئی سٹریٹجک صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال، وزیر دفاع خرم دستگیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان، وزیراعظم کے خزانہ و اقتصادی امور کے مشیر مفتاح اسماعیل، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ، امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری اور اعلی سول و ملٹری حکام نے شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی قیادت کی طرف سے دیئے جانے والے بعض حالیہ بیانات پر گہری مایوسی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ جنوبی ایشیاءکے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی کے اعلان کے بعد امریکی قیادت کے ساتھ قریبی روابط سے افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کیلئے ایک دوسرے کا موقف بہتر طور پر سمجھنے کیلئے مفید ثابت ہوئے۔








