اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قانونی طور پر دوہری شہریت کا حامل شخص قومی اسمبلی اور سینیٹ کا رکن نہیں بن سکتا تاہم ان کے لئے کسی بھی دوسرے عہدے پر فائز رہنے کی کوئی پابندی نہیں ہے، جمہوریت میں عوام کے اعتماد پر ان کی وجہ سے منتخب نمائندوں کی حیثیت زیادہ ہوتی ہے تاہم حکومت کو ان …
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے مشیروں اور معاونین خصوصی کی دوہری شہریت اور اثاثہ جات ڈیکلیئر کر کے مثال قائم کی ہے ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قانونی طور پر دوہری شہریت کا حامل شخص قومی اسمبلی اور سینیٹ کا رکن نہیں بن سکتا تاہم ان کے لئے کسی بھی دوسرے عہدے پر فائز رہنے کی کوئی پابندی نہیں ہے، جمہوریت میں عوام کے اعتماد پر ان کی وجہ سے منتخب نمائندوں کی حیثیت زیادہ ہوتی ہے تاہم حکومت کو ان کے مشیر کی حیثیت سے غیر منتخب تکنیکی ماہرین کی ضرورت پڑسکتی ہے اور دنیا بھر میں یہ عمل عام ہے۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ ڈویژن نے 18 جولائی کو وزیر اعظم عمران خان کے 20 مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثوں اور دوہری شہریت کی تفصیلات جاری کیں جس میں سے چار دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی میں متعدد غیر منتخب افراد نے اپنی خدمات حکومتوں کو پیش کیں تاہم وزیر اعظم عمران خان نے اپنے مشیروں اور معاونین خصوصی کی دوہری شہریت اور مالی اثاثوں کو ڈیکلئرکر کے مثال قائم کردی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج تک پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت نے مفادات کے تصادم سے بچنے اور عہدوں کو ذاتی یا معاشی فوائد کیلئے استعمال نہ کرنے کی واضح پالیسی نہیں اپنائی۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم کو معاونین خصوصی اور مشیروں کی تقرری کا اختیار حاصل ہے، مشیروں اور ٹیکنوکریٹس کی تقرری قانون کے مطابق کی گئی ہے۔








