بیجنگ ۔04 نومبر(اے پی پی)ریاستی اداروں کا استحکام اور غربت کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، ریاستی اداروں کے استحکام سے بد عنوانی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے،وائٹ کالر کرائم سے نمٹنا انتہائی اہم ہے اس حوالے سے چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیںاور چین کا تعاون درکار ہے، ہمارے لیے مغرب کے برعکس چین کا ماڈل بنیادی اہمیت کا حامل ہے ، بدعنوانی کے خاتمہ سے ہی اہداف …
وزیر اعظم عمران خان کااپنے وفد کے ہمراہ بیجنگ میں چین کے سنٹرل پارٹی سکول کادورہ اور خطاب

مزید خبریں
بیجنگ ۔04 نومبر(اے پی پی)ریاستی اداروں کا استحکام اور غربت کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، ریاستی اداروں کے استحکام سے بد عنوانی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے،وائٹ کالر کرائم سے نمٹنا انتہائی اہم ہے اس حوالے سے چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیںاور چین کا تعاون درکار ہے، ہمارے لیے مغرب کے برعکس چین کا ماڈل بنیادی اہمیت کا حامل ہے ، بدعنوانی کے خاتمہ سے ہی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے، میں اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نے آزاد ملک میں آنکھ کھولی ، 1960ءکی دہائی میں پاکستان کی ترقی شاندار تھی لیکن بدعنوانی نے ترقی کی رفتار کو بری طرح متاثر کیا، حکمران طبقے اور ارباب اختیار کی بدعنوانی سے ملک متاثر ہوا ، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے باعث قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا اور قومی ترقی متاثر ہوئی ۔ اتوار کو وزیر اعظم عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ بیجنگ میں چین کے سنٹرل پارٹی سکول پہنچے تو سکول کے قائم مقام صدر نے وزیر اعظم کا استقبال کیا ۔








