فیصل آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، ترقی کے لئے صنعتیں قائم کرنے، برآمدات بڑھانے، زرعی پیداوار میں اضافے، سیاحت کے فروغ اور فنی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی، سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں، انہیں مناسب ماحول فراہم کیا جارہا ہے، غربت میں …
وزیر اعظم عمران خان کا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹیٹ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، ترقی کے لئے صنعتیں قائم کرنے، برآمدات بڑھانے، زرعی پیداوار میں اضافے، سیاحت کے فروغ اور فنی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی، سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں، انہیں مناسب ماحول فراہم کیا جارہا ہے، غربت میں کمی کے لئے چین کے اقدامات ہمارے لئے مثال ہیں، نیب قوانین میں تبدیلی کے بعد بیورو کریسی کے پاس اب کوئی بہانہ نہیں، کام تیز کرنا ہو گا، پنجاب میں کوئی رسہ گیر،قاتل، ڈاکو اور مافیا نظر نہیں آنا چاہیے، سپیشل اکنامک زونز پر کام تیزی سے مکمل کیاجائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹیٹ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زون ترقی کی جانب بہت اہم قدم ہے۔ سپیشل اکنامک زونز کا قیام پاکستان کے لئے ہمارے ویژن کا عکاس ہے۔ ہم پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کی ترجیح غریب طبقے کو اوپر لے کر آنا اور ایسی ریاست قائم کرنا ہے جہاں انسانیت ، رحم ، انصاف، قانون کی بالا دستی اور کمزور طبقے کو تحفظ حاصل ہو کیونکہ یہ چیزیں انسانوں کے معاشرے کو جانوروں کے معاشرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کمزور طبقوں کی فلاح کی ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر تقریب میں یہ بات کہتا ہوں کہ انگزیری کا بے موقع استعال غلامانہ ذہن کا عکاس ہے۔ دنیا بھر میں اپنی قومی زبانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسمبلی میں انگریزی میں تقریریں کی جاتی ہیں۔ ہمیں آزاد ہوئے 72 سال ہوگئے ہیں لیکن مائنڈ سیٹ اپ تبدیل نہیں ہوا۔ ہمیں انگریزی کو اعلیٰ تعلیم کے لئے استعمال کرنا چاہیے لیکن ہم ایسے لوگوں کے سامنے جن کو انگریزی نہیں آتی انگریزی بول کر ان کی توہین کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسمبلی میں بھی انگریزی میں بات کرتے ہیں حالانکہ مجھے پتہ ہے کہ اسمبلی میں کتنے لوگ انگریزی سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے ملک میں غربت میں کمی کے لئے صنعتی ترقی کا راستہ اپنانے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاکہ اس کے بغیر عوام کو غربت سے نہیں نکالا جا سکتا نہ ہی روزگار کے مواقع فراہم کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل صنعتی ترقی سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60ء کی دہائی میں ملک صنعتی ترقی کی طرف بڑھ رہا تھا لیکن بد قسمتی سے 70ء کی دہائی میں سرمایہ کار مخالف مہم چلا کر صنعتی ترقی کا پہہ روک دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہمیں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ پاکستان کے ویژن کے مطابق برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ ملک میں زرعی ترقی بھی ہمارے ویژن کا حصہ ہے۔ ہمیں اپنی زرعی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا ہو گی کیونکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلہ میں ہماری فی ایکڑ پیداوار کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبہ کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ سیاحت کے فروغ سے پاکستان بہت پیسے کما سکتا ہے۔ ہم نے اس پر ماضی میں توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے لئے ملک میں فنی اور اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ اس کے بغیر ہمارے نوجوان اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز کے قیام پر پنجاب حکومت اور سرمایہ کاری بورڈ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین جیسے دوست ملک کی صورت میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا بہت موقع میسرآیا ہے۔ چین تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ترقی کے لحاظ سے آئندہ 10 سالوں میں دنیا کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ سی پیک ملکی ترقی کے لئے سنہری موقع ہے۔ یہ صرف سڑکیں تعمیر کرنے کا منصوبہ نہیں بلکہ اس میں بہت سے شعبے شامل ہیں۔ اکنامک زونز میں چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اکنامک زون کے قیام سے چینی کمپنیوں کوسرمایہ کاری کے لئے ساز گار ماحول مہیا کیا جائے گا۔ چین کی صنعتیں یہاں منتقل ہونے کے لئے تیار ہیں۔ ہمیں انہیں سازگارماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ویتنام کی مثال دی جس نے چینی سرمایہ کاروں کو راغب کر کے بہت فائدہ اٹھایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز کے قیام سے چینی ٹیکنالوجی بھی پاکستان میں منتقل ہو گی اور فنی تربیت کے ادارے بھی قائم ہوں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی کے لئے چین کا ماڈل ہمارے لئے بہترین مثال ہے۔ چین نے 30 سالوں میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ چین نے وسائل عوام کی ترقی پر خرچ کئے ہیں۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور پنجاب حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی سادگی ایک مثال ہے ۔ وہ عوام کا ایک ایک پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کرتے ہیں ۔اس سے بڑا ظلم نہیں کہ مقروض ملک کا وزیر اعلیٰ ایسے شاہانہ انداز میں زندگی گزار رہا ہو جیسے یہاں تیل کی نہریں بہہ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک غریب ملک کا سربراہ کیسے شاہانہ انداز اختیار کرسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے اخراجات کم کرنے پر وزیراعلی پنجاب کو سراہا۔ وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری کو ان کی نئی ذمہ داری پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب میں اچھی گورننس کے خواہاں ہیں۔ جو سرمایہ کاری میں مدد کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نیب قوانین میں تبدیلی اس لئے لائے ہیں کہ بیورو کریسی پر تلوار لٹک رہی تھی جس کی وجہ سے فائلیں آگے نہیں بڑھتی تھیں اور افسر دستخط کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔ اب کوئی بہانہ نہیں ہے۔ اب کام تیز کرنا ہوگا۔ امید ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد بیورو کریسی فعال کردار اد اکرے گی۔ انہوں نے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو بھی مبارک باد دی اور کہاکہ انہوں نے بڑے بڑے ڈاکوؤں اور قاتلوں کو پکڑنا شروع کیا ہوا ہے۔ رسہ گیر اور مافیا کے لوگ عوام کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ 30 سال کے دوران ان رسہ گیروں اور غنڈوں جو ہر ضلع میں بیٹھے ہوئے تھے سے سیاسی لوگ دوستیاںکر لیتے تھے۔ انہوں نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ اگلے دو تین ماہ کے اندر پنجاب میں کوئی ڈاکو، رسہ گیر ،قاتل اور مافیا نظر نہ آئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ماہ کے دوران پولیس نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بڑے بڑے قاتلوں کر پکڑ کر جیلوں میں ڈالا ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو سپیشل اکنامک زون کے قیام پر مبارکباد دی اور ہدایت کی کہ باقی زونز پر بھی تیزی سے کام کیا جائے ۔ وفاقی حکومت اس سلسلہ میں بھر پور تعاون کرے گی۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے تحت پہلا اکنامک زون فیصل آباد میں قائم کیا جا رہا ہے۔ صوبہ میں 10 خصوصی اقتصادی زونز تعمیر کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ٹیوٹا کے ذریعے فنی تربیت دی جائے گی۔ صوبہ پنجاب میں متعدد ترقیاتی اور فلاحی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی لحاظ سے پنجاب ملک میں سب سے زیادہ ترقی کرے گا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین بھی موجود تھے۔








