وزیر اعظم عمران خان کا ملائیشیا کے انسٹی ٹیو ٹ آف ایڈوانس اسلامک سٹڈیز میں خطاب، شرکاءکے سوالوں کے جواب

کوالالمپور ۔ 4 فروری (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت انتہا پسند نظریہ پر عمل پیرا ہے، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے دنیا دیکھ رہی ہے، یہ بڑے المیے کا سبب بن سکتا ہے، بھارت میں مسلمانوں کو تاریخ کے بد ترین سلوک کاسامنا ہے۔ منگل کو یہاں انسٹیٹیو ٹ آف ایڈوانس اسلامک سٹڈیز میں کلیدی خطاب کے بعد …

کوالالمپور ۔ 4 فروری (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت انتہا پسند نظریہ پر عمل پیرا ہے، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے دنیا دیکھ رہی ہے، یہ بڑے المیے کا سبب بن سکتا ہے، بھارت میں مسلمانوں کو تاریخ کے بد ترین سلوک کاسامنا ہے۔ منگل کو یہاں انسٹیٹیو ٹ آف ایڈوانس اسلامک سٹڈیز میں کلیدی خطاب کے بعد شرکاءکے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جس کا کوئی نظریہ ہوتا ہے اور وہ اپنے موقف پر قائم رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیرا عظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی ہم بہت عزت کرتے ہیں اور ان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی دھمکیوں کے باوجود یہ اصولی موقف اپنایا اور اس کا اظہار کیا کہ جو کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے وہ شرمناک ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام فاشسٹ اور نسل پرست حکومت کے ہاتھوں یر غمال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کو ہم اصولوں کی بنیاد پر موقف اختیار کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ شرکاءنے مسلمانوں کا مقدمہ بہترین طریقے پیش کرنے پر وزیراعظم عمران خان کو سراہا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم پاکستان میں ایسی یونیورسٹیاں قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو سائنسز اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مدینہ کی ریاست اور حضور نبی کریم کی زندگی اور اسوہ حسنہ کے حوالے سے تحقیق کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حضور نبی کریم نے جو کامیابیاں اپنی زندگی میں حاصل کیں وہ کوئی انسان حاصل نہیں کرسکا اور نہ ہی کوئی حاصل کرسکتا ہے۔ حضورﷺ کی تعلیمات پر عمل پیراہو کر مسلمانوں نے چند برسوں کے اندر دنیا کی دو بڑی سلطنتوں پر فتح حاصل کی۔ ہمیں ان اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جن کی بنیاد پر مدینہ کی ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ بھارت سے تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم بننے کے بعد بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک غربت کا شکار ہیں اور اس پر قابو پانے کا راستہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں خوشگوار تعلقات ہوں اور دفاع کی بجائے غربت میں کمی کے لئے خرچ کریں لیکن بھارت کی حکومت انتہا پسند نظریئے پر عمل پیرا ہے۔ میں بھارت کو جانتا ہوں وہاں میرے کئی کرکٹ کے زمانے کے دوست ہیں۔ بھارت جس نظریئے پر عمل پیرا ہے وہ بھارت کے لئے تباہ کن ہے۔ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ بڑے المیے کا باعث بن سکتا ہے۔ مسلمانوں کو بھارت میں بد ترین سلوک کا سامنا ہے۔ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے دنیا دیکھ رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت مل کر اپنے عوام کو غربت سے نکال کر ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔ بھارتی حکومت غربت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے تو پاکستان ہاتھ ملانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا منقسم ہونے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔ امہ کو متحد کرنے کا مقصد کسی سے لڑنا نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے مفاد کے لئے ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی میں کمی کے لئے کردار ادا کیا۔