وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس سے تجارتی اور دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، میاں کاشف اشفاق

اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):یوکے پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس سے تجارت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ منگل کو الجموم ہارڈ ویئر ٹریڈنگ ایل ایل سی دبئی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اسامہ ندیم کی قیادت میں تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے میاں کاشف …

اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):یوکے پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس سے تجارت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

منگل کو الجموم ہارڈ ویئر ٹریڈنگ ایل ایل سی دبئی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اسامہ ندیم کی قیادت میں تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے میاں کاشف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران روس اور پاکستان نے سیاسی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی بحالی اور توانائی کے حصول اور روس کی طرف سے ایشیا میں اپنی اقتصادی موجودگی کو بڑھانے کی خواہش دونوں ممالک کو قریب لارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس نے 2019 میں پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے 14 بلین ڈالر کے سرمایہ کاری پیکج کا وعدہ کیا تھا جس میں قدرتی گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے 2.5 بلین ڈالر بھی شامل ہیں جس پر گزشتہ سال دستخط ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن کی قیادت میں روس نے گریٹر یورپ کو گریٹر یوروایشین پارٹنرشپ کے طور پر ترتیب دیتے ہوئے اپنی جغرافیائی سیاسی بحالی کی حکمت عملی کو آگے بڑھایا ہے۔

روس اپنی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کو اجاگر کرنے کیلئے ایک نئی ایشیائی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ میاں کاشف نے کہا کہ موجودہ حالات میں وزیر اعظم عمران خان کا دورہ روس ایک تاریخی اور بڑی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے 23 سال بعد وزیر اعظم عمران خان کو مدعو کیا ہے جو ان کی قائدانہ خصوصیات کی عکاسی کرتا ہے۔

وفد کے سربراہ اسامہ ندیم نے کہا کہ روسی صدر وزیراعظم عمران خان کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اب چاہے وہ علاقائی امور ہوں ہو یا بین الاقوامی مسائل، پاکستانی وزیر اعظم کی آواز کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے جس نے پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پاکستان کی سفارت کاری، جو جیو اکنامک حکمت عملی اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان متوازن تعلقات پر مرکوز ہے، بہت کامیاب رہی ہے۔