وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی نجی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کرنا، ایوان کو چلانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری اور فرض ہے، اپوزیشن جانتی ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی پارلیمنٹ پر ہیں، اپوزیشن ضدی اور ناراض بچے کا رول ادا کر رہی ہے، …

اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کرنا، ایوان کو چلانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری اور فرض ہے، اپوزیشن جانتی ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی پارلیمنٹ پر ہیں، اپوزیشن ضدی اور ناراض بچے کا رول ادا کر رہی ہے، ارکان پارلیمنٹ کو تنخواہیں قوم کے پیسوں سے ہی جاتی ہیں اسلئے انہیں قومی مفاد اور قومی سلامتی کے معاملے پر قانون سازی کیلئے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے، حکومت پر زیادہ ذمہ داری ہے اور وزیر اعظم عمران خان بھی چاہتے ہیں کہ موثر قانون سازی کے ذریعے یہ معاملہ پایہ تکمیل تک پہنچے۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ اپوزیشن ناجائز مطالبات منوانے کیلئے ایسے حربے استعمال کر رہی ہے لیکن وہ جان لیں کہ حکومت ان کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سزا یافتہ قیدی نے والد کی عیادت کیلئے باہر جانے کی اجازت مانگی ہے، مریم نواز کے معاملے پر عدالت کے تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے، مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ کابینہ کے سامنے نہیں آیا ابھی صرف جنرل ڈسکش میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا ہے جس پر ہر ممبر نے اپنے طور پر رائے دی،کابینہ کے سامنے جب اسے ایجنڈا آئٹم کے طور پر لایا جائے گا تو اس پر غور کیا جائے گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان میں سب کیلئے یکساں قانون بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے وعدہ بھی ہے کہ ہم ملک میں بلاامتیاز سب کو برابری کی سطح پر انصاف فراہم کریں گے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ منشیات کا الزام بہت سنجیدہ ہے، رانا ثناءاللہ کے معاملے کو عدالت میں ثابت کریں گے،منشیات فروشی میں ملوث کسی شخص کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف حکومت نے کیسز نہیں بنائے، نیب تمام الزامات سامنے رکھ کر ان سے پوچھ گچھ کر رہا ہے، انہیں الزامات کا جواب نیب میں دیناچاہیے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بدقسمتی سے عدالتوں اور قانون کے مفرور باہر بیٹھ کر پاکستان کے قوانین کی تشریح کر رہے ہیں، معاشی اور سیاسی ایشوز پر بحث کر رہے ہوتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایسے ملزمان اور مطلوب افراد کیلئے دائرہ کار طے کریں تاکہ یہ لوگ پاکستان قوانین اور عدالتوں کا مذاق نہ اڑا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک علاج کیلئے دی گئی مدت ختم ہونے کے بعد حکومت اس مسئلے کے بارے اگلا لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

مزید خبریں