اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے پیر کو پاکستان۔ازبکستان تعاون کے آٹھویں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیایوف، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، ایس آئی ایف سی، کاروباری برادری اور سفارتی حلقوں کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز دونوں برادر ممالک کے درمیان مشترکہ تاریخ، ثقافتی روابط …
وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت پاکستان۔ازبکستان تعاون کے آٹھواں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے پیر کو پاکستان۔ازبکستان تعاون کے آٹھویں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیایوف، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، ایس آئی ایف سی، کاروباری برادری اور سفارتی حلقوں کے اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز دونوں برادر ممالک کے درمیان مشترکہ تاریخ، ثقافتی روابط اور سٹرٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کے اظہار سے ہوا۔اجلاس میں دونوں ممالک نے ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، سرجیکل آلات، معدنیات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان نے ازبکستان کے ساتھ 2 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کے ہدف کے حصول کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ازبک سفیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کی منڈیوں کو جوڑنا دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے۔ فارماسیوٹیکل شعبہ اجلاس کا اہم موضوع رہا۔ ازبک نمائندگان نے پاکستان کی فارما صنعت کی صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ ازبکستان کا فارما پارک ماڈل متاثرکن ہے اور پاکستان میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں پاکستانی ادویات کی ازبکستان میں سست رفتاری سے ہونے والی سرٹیفکیشن پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ جواب میں ہارون اختر خان نے یقین دہانی کرائی کہ سرٹیفکیشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈریپ، پاکستان فارما ایسوسی ایشن اور ازبک ریگولیٹرز پر مشتمل مشترکہ کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا تاکہ فارما تعاون سے متعلق مسائل کو فوری حل کیا جا سکے۔ایوی ایشن کنکٹیویٹی بھی گفتگو کا اہم حصہ رہی۔
ازبک سفیر نے کراچی سے اوزبکستان کے لئے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے تجارت اور سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پاک۔ازبک فضائی روابط تجارت اور سفری امکانات بڑھانے کے لئے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوزبکستان خلیجی ممالک سے یورپ تک سفر کے لئے نیا گیٹ وے بن سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ پاکستان سے اوزبکستان کے لئے براہِ راست پروازوں کا فوری آغاز کیا جائے اور اس سلسلے میں پاکستانی ائیرلائنز کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان بینکاری تعاون کو فوری طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ ازبک سفیر نے کہا کہ موجودہ بینکاری رکاوٹیں تجارتی لین دین میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں جبکہ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ مالیاتی تعاون دونوں ممالک کے لئے معاشی شراکت داری کو برقرار رکھنے کے لئے ناگزیر ہے۔
سٹیٹ بینک کے نمائندگان نے بتایا کہ بینکاری مسائل جلد حل ہو جائیں گے اور متعدد پاکستانی بینک دوطرفہ تجارت کے لین دین چلانے کے لئے تیار ہیں۔ ہارون اختر خان نے اعلان کیا کہ نیشنل بینک آف پاکستان ازبکستان میں اپنی شاخ کھولے گا جس سے دونوں ممالک کے کاروباروں کو سہولت ملے گی۔صوبائی شمولیت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ہارون اختر خان نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ ازبکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں صوبوں کو بھی شامل کیا جائے۔
انہوں نے صوبائی وزارتِ صنعت پر زور دیا کہ وہ ان نئے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ منصوبوں میں فعال کردار ادا کریں۔ اجلاس میں پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان زمینی و ریلوے رابطوں میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ پاکستان خطے میں تجارتی حب بننے کے لئے عملی اقدامات کر رہا ہے اور ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
اجلاس میں معدنیات کے شعبے میں تعاون کے امکانات کے جائزے اور تمام مشترکہ ورکنگ گروپس کو آئندہ اجلاس میں پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایات کے ساتھ ہوا۔ دونوں ممالک کی قیادت نے اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور طویل مدتی شراکت داری کے فروغ کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔








