اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنےاوردنیا بھر میں ماحولیاتی و حیاتیاتی تحفظ کے لیےپروٹیکٹڈ ایریا میں اضافے کے حکومتِ کے عزم کی توثیق کی، یہ تحفظ زمین پر انسانی زندگی کے محفوظ اور بہتر مستقبل کے لیے لازم ہے۔ ماحول اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اپنے ان خیالات کا اظہار انہوں نے …
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا ہائی ایمبیشن اتحاد کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنےاوردنیا بھر میں ماحولیاتی و حیاتیاتی تحفظ کے لیےپروٹیکٹڈ ایریا میں اضافے کے حکومتِ کے عزم کی توثیق کی، یہ تحفظ زمین پر انسانی زندگی کے محفوظ اور بہتر مستقبل کے لیے لازم ہے۔ ماحول اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اپنے ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت فرانس اور کوسٹا ریکا کے کے زیر اہتمام ے منعقد ہونے والے ہائی ایمبیشن اتحاد کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر برطانیہ ، کینیڈا ، اسپین ، فرانس اور چودہ دیگر ممالک کے وزیر ماحولیات نے بھی خطاب کیا۔ ہائی ایمبیشن کوئلیشن فطرت اور افراد پر مبنی ایک بین العلاقائی گروپ ہے جو حیاتیاتی تنوع کے کنونشن میں انسانوں اور جانوروں کی بقاء کے لیے حیاتیاتی تنوع کے شدیدنقصانات اور ماحولیاتی نظام کو بہتر کرنے کے عزم کے طور پر اختیار کیا گیا ۔یہ امر اقوام متحدہ کےموسمیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن کے زمینی اور سمندری تحفظ کے کردار کو بھی فروغ دے گا۔ ملک امین اسلم نے عالمی اجلاس کے دوران متنبہ کیا کہ حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو دیکھے بغیر ہم صرف زمین پر زندگی کو درپیش چیلنجوں کو بڑھا رہے ہیں۔جبکہ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران زور دیا کہ خوراک اور زراعت کے لیےحیاتیاتی تنوع زمین کے سب سے اہم وسائل میں شامل ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ فصلیں ، جانور ، آبی حیاتیات ، جنگل کے درخت ، مائیکرو حیاتیات بھی حیاتیاتی تنوع کا جزو ہیں جس پر دنیا کی خوراک کی پیداوار منحصر ہے، لہٰذا تمام قدرتی وسائل کا تحفظ لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر چکاہے۔ ماحولیاتی طور پر متاثر زدہ علاقوں میں حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق موجودہ حکومت کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے معاونِ خصوصی ملک امین اسلم نے بتایا کہ تقریباً 7200 مربع کلومیٹر پر گورننس ، انتظامیہ ، مالی اعانت اور تحفظ کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے پروٹیکٹڈ ایریاز اینیشی ایٹیوکا آغاز کیا گیا ہے۔ دنیا میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو بڑھانے کے لیےہائی ایمبیشن کوئلیشن کے مقصد کی براہ راست تائیدکے لیے آئندہ چار سالوں میں پروٹیکٹڈ ایریاز کو 12 سے 15 فیصد تک بڑھادیا جائےگا۔ انہوں نےمزید کہا کہ کروناپھیلنے کے دوران ، ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے ذریعے نوکریوں سے محروم غربت کا شکار تقریبا ً 85000 افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئیں۔علاوہ ازیں، پروگرام کے پہلے مرحلے کے دوران 3.29 بلین پودے لگا کر ملک میں جنگلات کا احاطہ بڑھانا اس حکومت کے ماحولیاتی ایجنڈے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔دریں اثنا ، وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ملک امین نے اپنے اختتامی کلمات میں اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان نےعالمی شہرت یافتہ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام ، گرین ا سٹیمولس اینیشی ایٹیو ، پروٹیکٹڈ ایریاز اینیشی ایٹیو اور ریچارج پاکستان پروگرام کے ذریعہ عملی طور پر مظاہرہ کیا ہے کہ کرونا جیسے وبائی مرض کے دوران فطرت پر مبنی مسائل کا حل کس طرح عوام کے لیے بہتری کے مواقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔








