وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ساتھ صوبے کی دیرینہ ترقیاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات

مزید خبریں
کراچی۔ 23 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ساتھ صوبے کی دیرینہ ترقیاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔بدھ کو وزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے پاکستان ریزیڈنٹ مشن کی کنٹری ڈائریکٹر مس ایما فین سے ملاقات کے دوران کہی۔وزیراعلی ہائوس میں ہونے والی ملاقات میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم احمد شاہ، سیکرٹری سکول ایجوکیشن زاہد عباسی، وزیراعلی کے سیکرٹری آصف جمیل، ایس ایس ای آئی پی کے پی ڈی رضوان سومرو اور دیگر نے شرکت کی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پرنسپل کنٹری سپیشلسٹ شوکت صافی اور پرنسپل پروجیکٹ آفیسر خرم امتیاز سمیت دیگر نمائندے شریک ہوئے۔ملاقات میں سندھ کی ترقیاتی ترجیحات، ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں، مستقبل میں سرمایہ کاری کے مواقع اور تعلیم، ٹرانسپورٹ، صحت، ڈیجیٹل تبدیلی اور دیہی ترقی کے شعبوں میں اہم اقدامات پر عملدرآمد کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے سندھ کی تعلیمی پیش رفت کو سراہا گیا۔
وزیراعلی نے مس ایما فین اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے سندھ کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی مسلسل معاونت کو سراہا اور مختلف شعبوں میں سندھ حکومت اور ترقیاتی شراکت دار کے درمیان کامیاب تعاون کو اجاگر کیا۔وزیراعلی نے 2026 میں کراچی میں ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم (اے پی ایس ایس ایف) کی کامیاب میزبانی کا بھی ذکر کیا۔ ایما فین نے فورم کے کامیاب انعقاد پر سندھ حکومت کو مبارکباد دی اور پائیدار اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ ترقی کے فروغ کے لیے صوبے کے عزم کو سراہا۔وزیراعلی اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ (ایس ایس ای آئی پی) پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جو صوبے کے اہم تعلیمی اقدامات میں شامل ہے،نئے سکولوں کے پہلے بیچ کو طلبہ کے لیے تیار کرلیا گیا۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے اصل ایس ایس ای آئی پی کے تحت 10 نئے تعمیر شدہ سیکنڈری سکولوں کی عمارتیں مکمل کرلی گئی ہیں اور مرحلہ وار پروگرام کے تحت انہیں فعال کیا جا رہا ہے۔
افتتاح کے لیے منتخب سکولوں میں جی جی پی ایس گھارو ٹو، جی جی پی ایس پبلک سکول مکلی اور ٹھٹھہ، جی بی پی ایس ملک موسی چوہان شامل ہیں۔منصوبے کے تحت سندھ کے 10 اضلاع میں 116 جدید سیکنڈری سکول بلاکس تعمیر کیے جانے ہیں، جس سے بالخصوص لڑکیوں اور کم سہولیات والے علاقوں میں معیاری تعلیم تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ وزیراعلی نے کہا کہ پہلے سکولوں کی تکمیل ایک اہم سنگِ میل ہے اور صوبے بھر میں تعلیمی مواقع بہتر بنانے کے حکومتی عزم کا اظہار ہے۔وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے کہا کہ تعلیم ہماری سب سے بڑی ترقیاتی ترجیح ہے۔ ایس ایس ای آئی پی کے تحت سکولوں کے پہلے بیچ کی تکمیل محض تعمیراتی سنگِ میل نہیں بلکہ سندھ کے بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ بالخصوص دیہی اور کم سہولیات والے علاقوں میں ہر بچے کو محفوظ، جدید اور معیاری تعلیمی سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اے ڈی بی کے ساتھ ہماری شراکت داری نے سندھ کے عوام کے لیے ٹھوس نتائج فراہم کیے ہیں،ہم رفتار برقرار رکھنے اور رواں سال کے اختتام تک 200 سے زائد سکولوں جبکہ آنے والے مہینوں میں مختلف پروگراموں کے تحت 800 سے زائد سکول مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پانچ اہم مضامین میں سیکنڈری سکولوں کے 2,630 اساتذہ کی تربیت مکمل کرلی گئی ہے۔ اساتذہ کے تربیتی دستورالعمل تیار، منظور اور نوٹیفائی کیے جاچکے ہیں،100 اسکولوں کو لیبارٹری کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔ انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری ایجوکیشن کے تمام سات بورڈز میں امتحانی اصلاحات کامیابی سے نافذ کردی گئی ہیں،شفافیت اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے او ایم آر پر مبنی امتحانی نظام متعارف کرایا گیا ہے،منصوبے پر تعمیراتی پیش رفت تقریبا 59 فیصد ہے جبکہ دسمبر 2027 تک نظرثانی شدہ تکمیل کے شیڈول کے مطابق عملدرآمد جاری ہے۔ اے ڈی بی پاکستان اور وزیراعلی نے منصوبے کی تکمیل تک پروجیکٹ ڈائریکٹر کی مدتِ تعیناتی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ۔ ایڈیشنل فنانسنگ (ایس ایس ای آئی پی۔ اے ایف) کے تحت پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جو سیلاب کے بعد تعمیر نو کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔ پروگرام کے تحت پانچ اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ 722 سکولوں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ اور صنفی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کے تحت دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم سردار شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ بڑے سول ورکس کی خریداری اور ٹھیکوں کا اجرا مکمل ہوچکا ہے، سینکڑوں سکولوں میں تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں، عارضی تعلیمی انتظامات پہلے ہی قائم کیے جاچکے ہیں اور تعمیراتی پیش رفت تقریباً 54 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مرحلہ وار تکمیل کے پروگرام کے تحت 495 تعمیر نو شدہ سکول اکتوبر 2026 سے جون 2027 کے درمیان حوالے کیے جانے کی توقع ہے۔وزیراعلی اور اے ڈی بی کی ٹیم نے مجوزہ سیکنڈ ایڈیشنل فنانسنگ (ایس اے ایف) پروگرام کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس اقدام کے تحت تقریباً 125 موسمیاتی خطرات سے محفوظ سیکنڈری سکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور استعداد کار میں اضافہ، امتحانی اصلاحات میں توسیع اور ڈیجیٹل اسیسمنٹ سسٹم، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم)، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اور ڈیجیٹل لرننگ کی سہولیات کے لیے تقریباً 125 ملین ڈالر متحرک کرنے کا منصوبہ ہے۔ پروگرام میں مجوزہ 10 ملین ڈالر کی آئی ایف ایف ای ڈی گرانٹ بھی شامل ہے، جس کے لیے حکام نے بتایا کہ مالی معاونت کے موقع کو محفوظ بنانے کے لیے بروقت منظوری ضروری ہے۔
ایما فین نے وزیراعلی کو بتایا کہ اے ڈی بی کا کنٹری پروگرامنگ مشن 2026 سے 2030 کے لیے مستقبل کے تعاون کی ترجیحات اور منصوبوں کے سلسلے پر سندھ کے محکموں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔مشن نے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر)، سندھ نرسنگ اینڈ ہیلتھ ورک فورس اسٹرینتھننگ پروجیکٹ، ڈیجیٹلائزیشن اینڈ اے آئی انیبلمنٹ پروجیکٹ، سسٹین ایبل موبیلٹی پروجیکٹ سندھ اور سندھ ایکسیلیریٹڈ ٹرانسفارمیٹو رورل واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائی جین (اسٹار۔ واش) میں مجوزہ سرمایہ کاری کا جائزہ لیا۔ایما فین نے کہا کہ اے ڈی بی سندھ حکومت کے ساتھ اپنی مضبوط شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایسے اقدامات کی حمایت کے لیے پرعزم ہے جو تعلیم، نقل و حرکت، صحت کی خدمات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنائیں۔ ایس ایس ای آئی پی کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت اس بات کا مظہر ہے کہ موثر تعاون اور مشترکہ عزم کے ذریعے کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سندھ حکومت کے ساتھ مستقبل کی ایسی سرمایہ کاری کے لیے قریبی تعاون کے منتظر ہیں جو جامع ترقی کو فروغ دے، انسانی سرمائے کو مضبوط بنائے اور صوبے بھر کی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر کرے۔
کراچی سرکلر ریلوے کے حوالے سے گفتگو کے دوران وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے زمین اور رائٹ آف وے سے متعلق زیر التوا امور حل کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے شہر کے لیے ایک تبدیلی لانے والا منصوبہ ہے اور کئی سال سے اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر زیر التوا امور حل کرے گی اور منصوبے کو عملدرآمد کی جانب لے جائے گی۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ آئندہ اقدامات میں ٹرمز آف ریفرنس کو حتمی شکل دینا، زمین کی دستیابی کی تصدیق اور منصوبے کے ڈیزائن پر کام کو آگے بڑھانا شامل ہوگا۔اے ڈی بی نے مجوزہ سندھ نرسنگ اینڈ ہیلتھ ورک فورس سٹرینتھننگ پروجیکٹ پر بھی اجلاس کو بریفنگ دی، جس کے لیے تقریباً 100 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ مجوزہ منصوبے میں نرسنگ کی تعلیم کو جدید بنانے اور سندھ بھر میں صحت کے شعبے سے وابستہ افرادی قوت کی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت شامل ہے۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ منصوبے کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ بنانے کے لیے محکمہ صحت کو مشاورت کے عمل میں مکمل طور پر شامل کیا جائے۔
ملاقات میں مجوزہ سسٹین ایبل موبیلٹی پروجیکٹ سندھ کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے ذریعے حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ اے ڈی بی نے اجلاس کو بتایا کہ اس اقدام کے لیے تقریباً 300 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ وزیراعلی نے منصوبے کو شہری نقل و حرکت بہتر بنانے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو منصوبہ بندی اور عملدرآمد کی تیاریوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ نے اجلاس کو کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ (کے بی آر ٹی) ریڈ لائن پروجیکٹ پر پیش رفت سے آگاہ کیا، جو اے ڈی بی اور بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں کے تعاون سے جاری پائیدار ٹرانسپورٹ کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ ملیر ہالٹ سے نمائش تک 26.6 کلومیٹر طویل کوریڈور سے تقریباً 15 لاکھ شہری براہِ راست مستفید ہونے کی توقع ہے کیونکہ یہ محفوظ، موثر اور ماحول دوست عوامی ٹرانسپورٹ فراہم کرے گا۔ منصوبے پر اس وقت تعمیراتی کام جاری ہے، یوٹیلیٹی کی منتقلی کے کام تکمیل کے قریب ہیں جبکہ کوریڈور کے مختلف حصوں میں بڑے تعمیراتی کام بھی جاری ہیں۔سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ایس ایس ای آئی پی پروگرام سندھ کی تاریخ میں سرکاری تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی اہم ترین سرمایہ کاری میں سے ایک ہے۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یہ سکول محض عمارتیں نہیں بلکہ مواقع، جدت اور سماجی تبدیلی کے مراکز ہیں۔ ایس ایس ای آئی پی کے ذریعے ہم ایسے تعلیمی ماحول تشکیل دے رہے ہیں جو ہمارے بچوں کو مستقبل کے لیے درکار علم اور مہارتوں سے آراستہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر اساتذہ کی تربیت مکمل کی گئی ہے، امتحانی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے اور جدید تعلیمی معیارات متعارف کرائے گئے ہیں، یہ مربوط طریقہ کار تعلیمی نتائج بہتر بنانے اور سرکاری سکولوں پر عوامی اعتماد مضبوط کرنے میں مدد دے گا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے تعلیم، موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت، ٹرانسپورٹ، صحت اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔







