اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت سستے اور قابل تجدید توانائی کے ملکی ذرائعِ سے بجلی پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بہت گنجائش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قابل تجدید توانائی کے حوالے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر توانائی نے کہا …
وزیر توانائی عمر ایوب کا قابل تجدید توانائی کے حوالے ورکشاپ سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت سستے اور قابل تجدید توانائی کے ملکی ذرائعِ سے بجلی پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بہت گنجائش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قابل تجدید توانائی کے حوالے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر توانائی نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو اہم پہاڑی ایریا سے نوازا ہے، بونجی، بھاشا، داسو اور تھا کوٹ ڈیم ایک ہی وادای میں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے چیزوں کو تبدیل کردیا ہے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کردیا ہے، پاکستان میں سولر کا استعمال بڑھ رہا ہے، قابل تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداواری قیمت فی یونٹ کم ہے، 2030 تک بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھ کر تیس فیصد ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بہتر ترسیل کے لئے 8 لاکھ 60 ہزار ٹرانسفارمر پر میٹرز لگائیں گے اور آٹو میٹرنگ سسٹم بجلی کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بہتر گرڈ سسٹم کی ضرورت ہے جس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہو گا۔ ہائیڈل، سولر، نیوکلیئر، مقامی کوئلے اور دیگر قابل تجدید وسائل کو بروئے کار لائیں گے اور 70 فیصد ضروریات ملکی وسائل سے پورے کرنے کے لئے کوششیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سستے اور قابل تجدید توانائی کے ملکی ذرائعِ سے بجلی پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بہت گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دستاویزی معیشت کا حجم اربوں ڈالر ہے لیکن غیر دستاویزی جی ڈی پی کا حجم اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان 20کروڑ لوگوں کا ملک ہے اور تین سو ارب ڈالر کی جی ڈی پی ہے، یہاں کے لوگ بہت با صلاحیت ہیں۔








