پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کا غزہ میں جاری انسانی بحران پر اظہار تشویش ، اسرائیل جامع پلان کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی زیر التوا ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرے، اعلامیہ

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کا غزہ میں جاری انسانی بحران پر اظہار تشویش ، اسرائیل جامع پلان کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی زیر التوا ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرے، اعلامیہ

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیانے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ جامع پلان کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی زیر التواء ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرے، انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کا سامان محفوظ اور بلا رکاوٹ غزہ پہنچانے کو یقینی بنائے اور اہم بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں سہولت فراہم کرے۔منگل کو ترجمان دفتر خارجہ کے جاری بیان کے مطابق پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔وزرائے خارجہ نے غزہ میں جاری انسانی مصائب پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جامع منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی باقی ماندہ ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرے جن میں انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کا سامان فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ پہنچانے کو یقینی بنانا اور اہم بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیا۔وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ روڈ میپ جامع منصوبے کا ایک لازمی حصہ ہے اور اس کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے عملدرآمد کا فریم ورک فراہم کرتا ہے جس میں مکمل اسرائیلی انخلا ءکے ساتھ غیر مسلح کرنا، بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی، غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی (این سی اے جی) کی جانب سے پورے غزہ کی پٹی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا اور پورے غزہ میں ابتدائی بحالی اور تعمیر نو کا آغاز شامل ہے۔

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اور بلا تاخیر اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کو ان کے وطن سے بے دخل کرنے یا جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے کے لیے کیے جانے والے کسی بھی اقدام یا مقبوضہ فلسطینی علاقے کے علاقائی یا آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو دوٹوک طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔وزرائے خارجہ نے اس تناظر میں اسرائیلی کنٹرول اور الحاق کو مستحکم کرنے کے لیے کیے جانے والے غیر قانونی اقدامات بشمول اسرائیلی آبادکاری کی توسیع میں تیزی، اراضی کی ضبطی، فلسطینی گھروں کی مسماری، آبادکاروں کا تشدد اور دہشت گردی اور جبری نقل مکانی پر افسوس کا اظہار کیا اور ان اقدامات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یروشلم میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔وزرائے خارجہ نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں کے ردعمل میں برطانیہ کی جانب سے حالیہ اقدامات، نیز وسیع تر قومی اور یورپی کوششوں کا خیرمقدم کیا جن میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت روکنے کے اقدامات شامل ہیں ۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خاتمے اور آبادکاروں کے تشدد پر جواب دہی یقینی بنانے کے لیے مزید موثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا لازمی حصہ برقرار رہنا چاہیے اور اس امر کی تصدیق کی کہ جامع منصوبے پر عملدرآمد سے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی کے دوبارہ اتحاد میں مدد ملنی چاہیے نیز فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے استعمال اور ایک خودمختار، قابل عمل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قابل اعتماد اور ناقابل واپسی راستے کی راہ ہموار ہونی چاہیے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور یہ سب دو ریاستی حل پر عملدرآمد کے ذریعے ممکن بنایا جائے۔وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہا اور جامع منصوبے پر عملدرآمد یقینی بنانے میں امریکا کے ناگزیر کردار پر زور دیا۔ انہوں نے تمام فریقین بشمول اسرائیل، کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں اور وعدے پورے کرنے اور روڈ میپ پر عملدرآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے امریکا کی مسلسل اور فعال شمولیت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ زمینی سطح پر ٹھوس پیش رفت بورڈ آف پیس کی ساکھ اور منصوبے کی اتھارٹی کو مضبوط کرے گی اور انتہائی ضروری رفتار پیدا کرے گی۔وزرائے خارجہ نے جامع منصوبے اور اس کے روڈ میپ پر مکمل عملدرآمد کو آگے بڑھانے، فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے

ان کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کو پورا کرنے اور خطے میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے حصول کے لیے امریکا، بورڈ آف پیس، فلسطینی اتھارٹی اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ اجتماعی طور پر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

مزید خبریں