پاکستان،مصر،سعودی عرب اور ترکیہ کا خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور

پاکستان،مصر،سعودی عرب اور ترکیہ کا خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور

نیویارک۔22ستمبر (اے پی پی):پاکستان ،مصر،سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نےخطے میں جاری کشیدگی اورجارحانہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیاہے کہ پائیدار حل کے لئے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں،انہوں نے دیرپا امن اور استحکام کے لئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیاہے۔وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر تمام حملوں، بشمول حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیاہے۔

منگل کو ترجمان دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق مصر،پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے یہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔ملاقات میں حالیہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لئے چاروں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت اور رابطہ کاری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

خطے میں جاری کشیدگی اورجارحانہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار حل کے لئے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے دیرپا امن اور استحکام کے لئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر تمام حملوں بشمول حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مملکتِ سعودی عرب کو اپنے دفاع، اپنے علاقے اور اپنی عوام کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

وزرائے خارجہ نے بحری جہاز رانی کی سلامتی اور آزادی کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے قانونی یمنی حکومت اور صدارتی قیادت کونسل کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے حصول کے لئے سیاسی عمل اور مختلف فریقوں کی شمولیت پر مبنی جامع یمنی-یمنی مذاکرات ضروری ہیں۔مسئلہ فلسطین کو مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لئے مرکزی حیثیت کا حامل قرار دیتے ہوئے وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا جن میں حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے جس کا دارالحکومت مشرقی مقبوضہ بیت المقدس ہو اور یہ سب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو۔

وزرائے خارجہ نے سوڈان کی خودمختاری، اتحاد، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور اس کے قانونی قومی ریاستی اداروں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سوڈان کی خودمختاری اور وحدت کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی متوازی ادارے کو مسترد کرنے پر زور دیا۔انہوں نے سوڈان کی سرزمین میں غیر قانونی ہتھیاروں، کرائے کے فوجیوں اور غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد و رفت روکنےکی ضرورت پربھی زور دیا۔وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر قریبی رابطہ کاری برقرار رکھنے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط اور خطے میں طویل المدتی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید خبریں