وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا قومی اسمبلی میں امریکی صدر کے بیان اور امریکہ کی افغان پالیسی کے حوالے سے بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال

قوم اور قومی ادارے امریکی صدر کی طرف سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اس طرز عمل کے خلاف متحد ہیں اور پوری قوم اس کے سامنے کھڑی ہے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا قومی اسمبلی میں امریکی صدر کے بیان اور امریکہ کی افغان پالیسی کے حوالے سے بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ …

قوم اور قومی ادارے امریکی صدر کی طرف سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اس طرز عمل کے خلاف متحد ہیں اور پوری قوم اس کے سامنے کھڑی ہے
وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا قومی اسمبلی میں امریکی صدر کے بیان اور امریکہ کی افغان پالیسی کے حوالے سے بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 30 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ قوم اور قومی ادارے امریکی صدر کی طرف سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اس طرز عمل کے خلاف متحد ہیں اور پوری قوم اس کے سامنے کھڑی ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں امریکی صدر کے بیان اور امریکہ کی افغان پالیسی کے حوالے سے بحث سمیٹتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ 1979ءکے بعد افغانستان کے ساتھ تعلق تین حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلا حصہ ہم نے جو جہاد کیا‘ دوسرا حصہ 90ءکی دہائی میں روسی افواج کے انخلاءکے بعد ہم اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے لئے کوشش کرتے رہ جو نہ آئی، طالبان کی حکومت آئی جس میں کسی حد تک ہماری مرضی شامل تھی۔ تیسرا حصہ جب نائن الیون کے بعد جنرل مشرف نے اپنے اقتدار کے تحفظ اور طوالت کے لئے افغانستان کی جنگ میں اپنے اڈے اور وسائل فراہم کئے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اس کے نتائج آج بھگت رہی ہے۔ یہ ہمیں ایسے مقام پر لے آیا ہے جہاں پر ہماری سلامتی کو خدشات لاحق ہوگئے ہیں جو دیرپا اثرات کے حامل ہیں۔ ان اثرات کو روکنے یا ان کا قلع قمع کرنے کے لئے گزشتہ چار سالوں میں آپریشن ضرب عضب‘ آپریشن ردالفساد اور خیبر فور آپریشن کئے۔ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دیں جس سے بڑی حد تک سیکیورٹی بحال ہوئی ہے مگر اس کے باوجود ہم سے ڈور مور کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ قوم اور قومی ادارے اس طرز عمل کے خلاف متحد ہیں اور پوری قوم اس کے سامنے کھڑی ہے۔ اس سلسلے میں سینٹ نے سفارشات دی ہیں قومی اسمبلی کی سفارشات بھی آچکی ہیں۔

Leave a Reply