وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 09 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے، پاکستان امریکا کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا، ہم کئی عشروں پر محیط امریکا کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات استوار رکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ تعلقات برابری، عزت و آبرو اور باہمی احترام کے رشتے پر مبنی ہونے چاہیئں۔ ہم امریکا کا ساتھ …

اسلام آباد ۔ 09 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے، پاکستان امریکا کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا، ہم کئی عشروں پر محیط امریکا کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات استوار رکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ تعلقات برابری، عزت و آبرو اور باہمی احترام کے رشتے پر مبنی ہونے چاہیئں۔ ہم امریکا کا ساتھ دینے کا خمیازہ آج بھی بھگت رہے ہیں۔ امریکا کئی سالوں سے ہمیں بہت لمبی چوڑی مداد نہیں دے رہا، ہم الحمدللہ امریکا کی اس مداد کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں،امریکا کی افغان پالیسی ناقص ہے جس کو وہ جتنی جلدی ختم کر لے تو اتنا ہی بہتر ہو گا،اس کا حل صرف اور صرف سیاسی ہی ہے جس سے تمام فریقین کی عزت بھی بچ جائے گی،افغانستان کو وہ امن بھی ملے گا جو پائیدار ہوگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ماضی میں بھی قانون کی حکمرانی کے لیے جنگ لڑی اور آج بھی آئین و قانون کی بالادستی ہی کے لیے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے خاندان کو بھی احتساب کے لیے عدالتوں کے سامنے پیش کیا۔عدالتوں کے فیصلوں پر تحفظات کے باوجود محمد نواز شریف نے جس طرح عدالتی فیصلوں کو نہ صرف مانا بلکہ ان پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا، اس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان پر ماضی میں بھی آزمائشیں آتی رہی ہیں جن سے وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے سرخرو ہوئے، پورا خاندان عدالتوں میں پیش ہو گا اور اپنے کیسز کا سامنا کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہے اور ہم ضرور 2018ءتک پہنچیں گے اور انشااللہ دوبارہ فاتح بھی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے وطن کی سرزمین میری ماں ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وطن کے دفاع کا جو موقع عطا کیا ہے یہ میری خوش قسمتی ہے اور میری زندگی کی معراج ہے، میں نے تو کبھی اس عہدے کا سوچا تک بھی نہیں تھا اور نہ ہی میری اتنی اوقات ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ موقع عطا کیا ہے تو میں پوری ایمانداری سے اسے نبھانے کی کوشش کروں گا۔ انہوں نے کہا نیشنل ایکشن پلان بنیادی طور پر اپنے گھر کو صاف کرنے کا ہی ایک پروگرام ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر پوری ایمانداری سے کام کیا جائے تو ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply