اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو سارک کے سیکرٹری جنرل ایسالا رووان ویراکون سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماو¿ں کے درمیان کرونا عالمی وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقتصادی و سماجی ترقی اور -علاقائی مسائل …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو سارک کے سیکرٹری جنرل ایسالا رووان ویراکون سے ٹیلیفونک رابطہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو سارک کے سیکرٹری جنرل ایسالا رووان ویراکون سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماو¿ں کے درمیان کرونا عالمی وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقتصادی و سماجی ترقی اور -علاقائی مسائل کے حل کیلئے سارک پلیٹ فارم کو متحرک اور فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے ایسالا رووان ویراکون کو چودھویں سیکرٹری جنرل سارک کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے انہیں پاکستان کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ آپ کی ماہرانہ سربراہی سے سارک عمل متحرک اور فعال ہو گا۔دونوں رہنماو¿ں نے جنوبی ایشیائی خطے میں اس عالمی وباءکی نوعیت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس عالمی وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے سارک ممالک کی طرف سے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، سارک کا بانی رکن ہونے کے ناطے، اسے علاقائی مسائل کے حل کیلئے ایک اہم فورم سمجھتا ہے۔پاکستان،اس کرونا وبائی چیلنج کو پیش نظر رکھتے ہوئے، سارک وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کا متمنی ہے تاکہ اس وبا کی روک تھام کیلئے متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے ۔وزیر خارجہ نے، سیکرٹری جنرل سارک کی سربراہی میں "سارک کووڈ19 ایمرجنسی فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس فنڈ سے متعلقہ قواعد و ضوابط کو ممبر ممالک کی مشاورت سے طے کیا جانا چاہیے۔وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل سارک کو موجودہ عالمی وبائی چیلنج کے پیش نظر، ترقی پذیر ممالک کی معاونت کیلئے، قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی تجویز سے آگاہ کیا تاکہ ترقی پذیر ممالک اپنے وسائل کو انسانی زندگیوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔وزیر خارجہ نے اس وبائی چیلنج کے معیشتوں پر پڑنے والے مضر اثرات کا جائزہ لینے کیلئے سارک تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس تحقیق کی روشنی میں، ان معیشتوں کی بحالی کیلئے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے میں مدد مل سکے۔دونوں رہنماو¿ں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیائی خطے کے قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اقتصادی و سماجی ترقی کیلئے سارک فورم کو بروئے کار نہیں لایا جا سکا -علاقائی مسائل کے حل کیلئے سارک پلیٹ فارم کو متحرک اور فعال بنایا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دونوں رہنماو¿ں نے کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے،سماجی و اقتصادی ترقی اور علاقائی مسائل کے حل کیلئے ، باہمی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔








