وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا افریقی ممالک کی سفراءکانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقتصادی سفارتکاری کے بغیر اور کمزور معاشی حالات میں خارجہ پالیسی مستحکم نہیں ہو سکتی، ماضی کی حکومتوں نے اقتصادی سفارتکاری پر توجہ نہیں دی، ہمیں افریقی ملکوں کے ساتھ پارٹنرشپ کو آگے بڑھانا ہو گا۔ جمعرات کو یہاں 2روزہ افریقی ممالک کی سفراءکانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ …

اسلام آباد ۔ 28 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقتصادی سفارتکاری کے بغیر اور کمزور معاشی حالات میں خارجہ پالیسی مستحکم نہیں ہو سکتی، ماضی کی حکومتوں نے اقتصادی سفارتکاری پر توجہ نہیں دی، ہمیں افریقی ملکوں کے ساتھ پارٹنرشپ کو آگے بڑھانا ہو گا۔ جمعرات کو یہاں 2روزہ افریقی ممالک کی سفراءکانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں جب حکومت ملی تو ملکی خسارہ بلند ترین سطح پر تھا، سٹیٹ بینک کے مطابق ہر ماہ 2 ارب ڈالر کا خسارہ ہو رہا تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ 30 سالوں میں افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات پر توجہ نہیں دی گئی جبکہ براعظم افریقہ چین سے بھی بڑی منڈی ہے۔ افریقی ممالک کو پاکستانی برآمدات انتہائی کم ہیں، پاکستان افریقہ کو زرعی اجناس کی برآمدات سے زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک سے کوئلہ، توانائی اور چائے درآمد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں افریقی ووٹ ہمارے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنی فارن سروس اکیڈمی کو بہت جلد ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع اولڈ چائنہ ایمبیسی کی عمارت میں منتقل کر رہے ہیں جہاں ملکی و غیر ملکی سفارتکاروں کو جدید ترین تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ فارن سروس اکیڈمی کی جگہ ”اسٹیٹ آف دی آرٹ“ ریسرچ سینٹر قائم کرنے جا رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو بڑھانے کی ضرورت ہے، ہم نے معاشی سفارتکاری کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ہم برآمدات کو بڑھانے اور کثیر الجہتی معاشی شعبہ جات میں کاوشوں کو بروئے کار لا کر قیادت کے وژن کے مطابق معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے پرعزم ہیں، ہم افریقی ممالک کے ساتھ مثبت، بامقصد اور یکساں ترقی کے مقاصد کے باہمی اصولوں کے تحت روابط کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اقتصادی سفارتکاری پر توجہ نہیں دی گئی جبکہ کمزور معاشی حالات میں خارجہ پالیسی مستحکم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کو اقتصادی سفارتکاری کیلئے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزارت تجارت نے نیروبی میں تجارتی کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، موجودہ حکومت کی جانب سے مشکل فیصلوں کے بعد اب اشاریے بہتر ہو رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو وہ وقار دلائیں گے جس کا وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔