کراچی ۔ 10 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی سفارت کاری پر بھرپور توجہ مرکوز کرکے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ ملک میں اقتصادی استحکام کیلئے گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران وفاقی حکومت کی طرف سے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ پیر کو انسٹی ٹیوٹ آف …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
کراچی ۔ 10 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی سفارت کاری پر بھرپور توجہ مرکوز کرکے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ ملک میں اقتصادی استحکام کیلئے گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران وفاقی حکومت کی طرف سے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ پیر کو انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے زیراہتمام ”21ویں صدی میں پاکستان کیلئے معاشی سفارتکاری کی تزویراتی اہمیت“ کے عنوان سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے انہوں اقتصادی استحکام کیلئے گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران وفاقی حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ترقی اور خوشحالی کیلئے پائیدار اور محفوظ فضاءکی راہ ہموار کرنے کیلئے ان کی وزارت نے آگے بڑھ کر ایک مضبوط اور فعال پالیسی اختیار کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اقتصادی سفارتکاری نے کسی بھی قسم کے حالات میں چیزوں کو قابل عمل بنایا ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو خسارہ کی حامل معیشت ورثہ میں ملی اور اس صورتحال کا تدارک کئے بغیر تبدیلی ممکن نہیں تھی لہٰذا پی ٹی آئی کی حکومت نے اس صورتحال کا ادراک کیا جبکہ یہ امر بھی باعث تشویش تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران ملکی برآمدات 0.16 فیصد سے 0.12 فیصد گر چکی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو ٹھیک کرنے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اس نازک وقت پر اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی برادری کے ساتھ ملک کے تعلقات کو استوار کرنے کے لئے عملی اقدامات اختیار کئے تاکہ فوائد زیادہ سے زیادہ فائدہ اور نقصان کم سے کم ہو۔ اپنی کوتاہیوں سے متعلق مناسب ادراک کے ساتھ حکومت دہشت گردی کے خاتمہ اور امن کی بحالی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لے کر آئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی مغربی سرحد پر ہندوتوا کے جارحانہ ایجنڈے کے پروان چڑھنے کے واضح اشارے ملنے کے باوجود، افغانستان میں حالات معمول پر لانے اور امن کی بحالی کےلئے مددگار واضح پالیسی کے ذریعے اس میں مزید بہتری لائی جا رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کسی بھی دو ملکوں کے مابین کسی بھی تنازعہ کا فریق نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم صرف امن کے فریق بن سکتے ہیں۔ بعد ازاں ایک سوال کے جواب مین وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی اپنے سامان کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش کی کوششوں میں افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیاءتک رسائی بھی شامل ہے۔ ملک کی صورتحال میں واضح بہتری کے تناظر میں انہوں نے بتایا کہ برطانیہ، امریکہ، ناروے، پرتگال اور متعدد دیگر یورپی ممالک نے پاکستان کے لئے اپنی ٹریول ایڈوائزری میں مثبت تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے وزیراعظم عمران خان کی ذاتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہترین اشاعتی اداروں میںسے ایک اہم اشاعتی ادارے نے سفر و سیاحت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پاکستان کو صف اول کی پر کشش سیاحتی منازل میں شامل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کی بھرپور صلاحیتوں کے مطابق اس کے متنوع پہلوﺅں پر بھی یکساں توجہ مبذول کی جائے گی۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران معیشت سے متعلق منفی چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مو¿خر ادائیگی پر ضرورت کا تیل حاصل کرنے کا فائدہ اٹھایا گیا جبکہ دوست ممالک بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ آگے آئے ہیں۔ سعودی عرب، ملائشیا، ترکی اور چین کے دوستانہ جذبات کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پروٹون اور آرامکو جیسی کمپنیاں بھاری سرمایہ کاری لے کر آگے بڑھی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کینیا میں منعقد ہونے والی پاک۔افریقہ تجارتی ترقی کانفرنس کا بھی تذکرہ کیا جس میں انہوں نے وزیراعظم کے مشیر برائے کامرس، صنعت و تجارت عبدالرزاق داﺅد کے ہمراہ شرکت کی ہے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے لئے مارکیٹ کی تلاش کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس ضمن میں جاپان اور دیگر بہت سے مملاک کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔ یورپی یونین کی طرف سے پاکستانی مصنوعات کے لئے جی ایس پی پلس کی سہولت ملنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے اظہار تشکر کیا کہ اسے برقرار رہنا چاہیئے کیونکہ اب صرف پاکستان ہی اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ قبل ازیں پروفیسر ہما بقائی نے وفاقی وزیر کا شرکاءسے تعارف کرایا جنہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان کا محور جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت میں بدل چکا ہے اور وزیرخارجہ اس گفتگو کو آگے بڑھانے کےلئے بہترین شخصیت ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر آئی بی اے کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سید غنی نے خیر مقدمی کلمات ادا کئے اور مہمان مقرر کو ادارے کا ایوارڈ پیش کیا۔ نشست میں طلبائ، سٹاف، ایلومینائی اور غیر ملکی سفارتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔








