ملتان ۔ 30 نومبر(اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع دینا چاہتے ہیں، اپوزیشن کے تعاون سے قانون سازی کی جائے گی، کشمیر ایک خطہ کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے، بھارتی جابرانہ ذہنیت سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔ ان خیالات کا …
ملتان میں میڈیا سے بات چیت اورایئریونیورسٹی کے کنوووکیشن سے خطاب

مزید خبریں
ملتان ۔ 30 نومبر(اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع دینا چاہتے ہیں، اپوزیشن کے تعاون سے قانون سازی کی جائے گی، کشمیر ایک خطہ کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے، بھارتی جابرانہ ذہنیت سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ملتان میں میڈیا سے گفتگو اور ایئر یونیورسٹی کے کنوووکیشن سے خطابت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آئین میں رہتے ہوئے کی گئی ہے، آرمی چیف کو خطے کی صورتحال کے باعث توسیع دی گئی ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ کا موجودہ صورتحال میں اہم کردار ہے، ماضی کی حکومتوں کے برعکس ہماری حکومت نے آرمی چیف کے معاملے پر عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، عدالتی تحریری فیصلہ کا انتظار ہے، وزیر اعظم آرمی چیف کو 3 سال توسیع دینا چاہتے ہیں، قانون سازی صرف موجودہ حکومت کا مسئلہ نہیں ہے امید ہے کہ اپوزیشن اپنا کردار ادا کریگی۔قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی توسیع بارے صورتحال واضح ہوگی۔صدر ٹرمپ کے دورے کے بعد طالبان مذکرات دربارہ شروع ہونگے۔افغانستان میں امن کے قیام اور بھارت سے مسائل اور خطے کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ہندوستان کبھی بھی ایڈونچر کرسکتا ہے لیکن ہماری مسلح افواج انڈین عزائم سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ انہوں نے کہا دھرنے کی وجہ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا۔دھرنے کے باعث کشمیر سے نظر ہٹ گئی۔ کشمیری آج بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ، میڈیا سے درخواست ہے کشمیر سے نظر مت ہٹائیں ۔انہوں نے کہا آج سری لنکا اور قطر کے دورہ پر روانہ ہو رہا ہوں۔اس دورے میں ترکی، انڈونیشا، ملائیشیا اور قطری وزیر خارجہ سے ملاقات کرونگا۔ سری لنکا میں سری لنکا کی نئی حکومت کو مبارک باد دینے کے ساتھ کشمیر کا مقدمہ بھی پیش کرونگا۔انہوں نے کہا ہماری حکومت کی پالیسی کی بدولت 1965ءکے بعد پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لایا گیا۔ کشمیر ایک خطہ کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) ہیومن رائٹس کمیشن نے کشمیر کی صورتحال پر جائزہ پیش کیا ہے جس میں او آئی سی نے پاکستان کے موقف کی من وعن تائید کی ہے۔ کشمیر میں کرفیو کو اور کالے قوانین کے نفاذ کو 117 دن ہوگئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔بابری مسجد پر بھارتی عدالتی فیصلے پر ہمیں تشویش ہے۔ بابری مسجد کے فیصلے پر او آئی سی نے پاکستان کی تشویش کی تائید کی ہے۔ او آئی سی پر تنقید ہوتی تھی کہ ادارہ اپنا کردار ادا نہیں کررہا ہے لیکن او آئی سی نے رواں ہفتے کشمیر کے حوالے سے اپنے اجلاس میں نقطہ نظر واضح کیا ہے۔کشمیر پر یورپی پارلیمنٹ ‘ امریکن کانگرس سمیت مغربی میڈیا نے پاکستانی موقف کی تائید کی ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فی الفور ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا ماضی کی حکومتوں نے 54ممالک کی 1.2بلین آبادی والے اہم خطے افریقہ کو نظر انداز کیا گیا لیکن ہم نے براعظم افریقہ کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام آباد میں افریقن ممالک کے سفیروں کی دو روزہ کانفرنس منعقد کی۔کانفرنس سے افریقن ممالک سے تعلقات میں بہتری آئے گے۔ پاکستان انگیج افریقہ پالیسی بنارہا ہے۔افریقی ممالک سے سیاسی اور تجارتی تعلقات بڑھا رہے ہیں۔افریقہ ایک بڑی منڈی ہے پاکستان مصنوعات برآمد کرینگے۔جنوری میں نیروبی میں معاشی سفارت کاری کے حوالے سے ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں وزارت تجارت کے مشیر رزاق داﺅد اور ان کی ٹیم شریک ہوگی جس کی بدولت پاکستان کے افریقہ کے ساتھ نہ صرف تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی ترقی کریگی۔انہوں نے کہا ملک میں معاشی سفارت کاری کے فروغ کیلئے 45ممالک میں ٹریڈ آفیسرز میرٹ پر تعینات کئے گئے ہیں اورتمام اہم ممالک میں ٹریڈ آفیسر کی آسامیوں پر تعیناتی کر دی گئی ہے جن کی بدولت ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سے ہمارے حریف خائف ہیں اور سی پیک کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں، بطور وزیر خارجہ قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ سی پیک حکومت پاکستان کی ترجیح ہے اور پاکستان کے مستقبل کے لئے گیم چینجر ہے، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان کی موجودہ حکومت نے گزشتہ 10ماہ میں جو اقدامات کئے ہیں وہ ماضی کی حکومتوں نے گزشتہ 10سالو ںمیں بھی نہیں کئے، بھارت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے لیکن بھارت اپنی اس کوشش میں ناکام ہوگا اور پاکستان جلد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بھی نکل آئیگا۔ انہوں نے کہا کہ ائیر یونیورسٹی ملتان کیمپس کے قیام پر جنوبی پنجاب کی عوام کو مبارکبا د دیتا ہوں، آج ایئر چیف سے ملاقات ہوئی اور جنوبی پنجاب میں ائیر یونیورسٹی کے قیام سے متعلق گفتگو کی۔ ائیر یونیورسٹی میں ایک شفٹ میں8 ہزار طلبہ تعیلم حاصل کریں گے اور مجموعی طور پر 16ہزار طالب علم تعلیم حاصل کریں گے۔ اس یونیورسٹی میں سائنس کے ساتھ فزکس ‘ انٹیلی جنس ‘ دفاع سمیت اہم فیکلیٹی کی تعلیم دی جائیگی جس کی بدولت سندھ ‘ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے طالب علم مستفید ہونگے اور ان پر روزگار کے دروازے کھلیں گے اور خطہ ترقی کرے گا۔قبل ازیں ایئر یونیورسٹی ملتان کے سالانہ کانوووکیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا آج بہت مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ میں آج ائر یونیورسٹی ملتان کیمپس کے دوسرے سالانہ کانوووکیشن میں موجود ہوں۔ائریونورسٹی ملتان کیمپس نے انتہائی مختصر وقت میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے لئے میں جناب وائس چانسلر اور ائریونورسٹی کی تمام انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میں ان طلباءاور ان کی فیمیلز کو بھی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں جو آج اس مادر علمی سے ایک اہم سنگ میل عبور کر کے جا رہے ہیں۔مجھے یہ جان کر انتہائی خوشی ہوئی کہ اب تک پانچ سو سکالرز اس علمی درسگاہ سے اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔گریجوایشن کی ڈگری آپ کو عملی زندگی میں، اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرتی ہے۔اپنے اپنے متعینہ شعبہ جات میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد، حاصل کی گئی یونیورسٹی ڈگری آپ کو عملی زندگی میں درپیش مسائل سے عہدہ براہ ہونے میں معاونت کرتی ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ محنت، لگن اور جذبہ انسان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔میں آپ کو یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پیشہ ورانہ مہارت کا حصول نہ صرف آپ کی عملی زندگی میں کامیابی کا ضامن ہے بلکہ ملک کیلئے بھی ایک اثاثہ ہے۔اکیسویں صدی کے آغاز سے گلوبلائزڈ ورلڈ دنیا کا تصور نمودار ہوا ورلڈ وائیڈ ویب اور علمی اقتصادیات نے فروغ پانا شروع کیا معلومات کی ترسیل دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک شروع ہوئی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا تجارتی اور مذہبی تصورات کی ترسیل بلا روک ٹوک ہونے لگی، تجارت اور کاروبار کے نئے مواقعے پیدا ہونے لگے۔دنیا صحیح معنوں میں”گلوبل ویلیج” میں تبدیل ہو گی تاہم عالمی سطح پر مالی بحرانوں کے بعد تحفظ پر مبنی پالیسیاں سامنے آنا شروع ہوئیں تجارت اور لیبر کی آزادانہ نقل و حرکت مسدود کی جانے لگی۔حال ہی میں آرٹیفشل انٹیلیجنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیو ٹکنالوجی کے ادغام نے دنیا بھر میں روایتی تعلیم یافتہ لاکھوں لوگوں کو غیر متعلق بنا دیا ہے یہ وہ صورتحال ہے جس کا آپ کو عملی زندگی میں سامنا کرنا ہو گی۔انہوں نے کہا ہندوستان میں انتہا پسند ہندو جماعت بی جے بی کی کامیابی اور اس کی جابرانہ ذہنیت نے پاکستان اور خطے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔اس ماہ کے آغاز میں وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کر کے دنیا بھر کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان قائداعظم کے ویژن کے مطابق مذہبی آزادی اور رواداری کے زریں اصولوں پر عمل پیرا ہے ۔ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں 118 دنوں سے بدترین کرفیو کا نشانہ بننے والے باہمت کشمیریوں کی آواز کو ہر فورم پر بلند کر رہے ہیں، ہم کشمیریوں کی حق خودارادیت کی اصولی جدوجہد میں ان کی معاونت جاری رکھیں گے۔نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں کامیابی کیلئے ہمیں قائد اعظم کے زریں اصولوں کو اپنانا ہو گا۔وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے اور ان کی فلاح وبہبود کیلئے "کامیاب نوجوان” پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ہماری حکومت نوجوانوں کو کاروبار کیلئے کم لاگت قرضے فراہم کر رہی ہے تاکہ نوجوان اپنے پاو¿ں پر کھڑے ہو کر اقتصادی ترقی کا موجب بنیں۔تقریب سے ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان ‘ایئر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایئر وائس مارشل (ر) فیض عامر نے خطاب کیا ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کنوووکیشن میں کامیاب طلبہ و طالبات میں میڈلز تقسیم کئے ۔ قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کانووکیشن میں شرکت کیلئے ایئر یونیورسٹی کیمپس پہنچے تو ایئر چیف مارشل مجاہد انور نے ان کا استقبال کیا اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایئر یونیورسٹی ملتان کیمپس کی تعمیر اور منصوبے کے حوالے سے وزیر خارجہ کو بریفنگ دی۔








