اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ماضی میں سیاسی انتقامی کارروائیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، سیاسی انتقام کی ہم پہلے بھی مذمت کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں۔ ملک کو جس بے دردی سے لوٹا گیا ہے اس حوالے سے بھی معاملات کو سامنے آنا …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایوان بالا میں اظہار خیال
اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ماضی میں سیاسی انتقامی کارروائیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، سیاسی انتقام کی ہم پہلے بھی مذمت کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں۔ ملک کو جس بے دردی سے لوٹا گیا ہے اس حوالے سے بھی معاملات کو سامنے آنا چاہئے، اپوزیشن اگر تنقید کرتی ہے تو حکومتی بینچوں سے جواب بھی سننا چاہئے، عوام کے سامنے تصویر کے دونوں رخ رکھنے ضروری ہیں۔ پیر کو ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملے پر ایوان میں بحث کا آغاز کیا گیا اور مہذب اور اچھے طریقے سے مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے اپنی تشویش کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن کا الگ الگ نکتہ ءنظر ہے، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ شاید سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے جبکہ اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ماضی میں احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے سیاسی انتقام کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو جس بے دردی کے ساتھ لوٹا گیا ہے اس حوالے سے بھی نکتہ نظر سامنے رکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ اپوزیشن ارکان اپنی لچھے دار تقاریر کرنے کے بعد کوئی بہانہ تراش کر واک آﺅٹ کر جائیں گے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے اگر کوئی بات کی جاتی ہے تو حکومت کی طرف سے کوئی جواب بھی آنا چاہئے اور حکومتی نکتہ نظر بھی سننا چاہئے۔









