اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی پیک اور بی آر آئی مسابقتی منصوبے نہیں بلکہ سی پیک ،بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے‘ ان منصوبوں سے دونوں برادر ملکوںکے مابین تعلقات مزید وسیع اور مستحکم ہونگے۔جمعرات کو چینی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ مستقل مزاجی،اعتماد اور ہر حالت میں ایک …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا چینی ٹی وی چینل کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی پیک اور بی آر آئی مسابقتی منصوبے نہیں بلکہ سی پیک ،بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے‘ ان منصوبوں سے دونوں برادر ملکوںکے مابین تعلقات مزید وسیع اور مستحکم ہونگے۔جمعرات کو چینی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ مستقل مزاجی،اعتماد اور ہر حالت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا،پاک چین دیرینہ اور طویل تعلقات کی بنیادی وجوہات ہیں،جسے موجودہ حکومت مزید مستحکم کریگی۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک پر خصوصی اقتصادی زونز قائم کر دیئے گئے ہیں جس کا مقصد نہ صرف دو طرفہ سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے بلکہ سی پیک میں دیگر ممالک سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی دعوت دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین سڑکوں،ریلویز،فائبر اوپٹکس کا انفراسٹرکچر قائم کر رہا ہے جس سے تیسرے فریق کو منصوبے سے مسلک ہونے میں آسانی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ تیسرے فریق کی شرکت سے سرمایہ کاری،روز گار کے مواقعوں،ٹیکنالوجی ٹرانسفر،علاقائی استحکام اور اقتصادی ترقی میں مزید اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مابین رابطے اور اعلی سطح پر تبادلے اس منصوبے میں نمایا کردار ادا کر رہے ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے چینی صدر زی جن پنگ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان،افغانستان اور چین کے مابین سہہ فریقی سٹریٹجک مذاکرات بھی ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں امن عمل کی حمایت کرتا ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ چین نے نہ صرف اقتصادی بلکہ شاندار انسانی ترقی بھی کی ہے۔








